سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل ایک فرقہ جو اپنے آپ کو بوہری کے نام سے موسوم کرتا ہے لیکن بعض معاملات میں مسلمانوں سے بالکل الگ ہیں اسی طرح آغا خانی شریعت میں ان کا کیا حکم ہے؟ ان کے ساتھ معاملات اور لین دین میل جول صحیح ہے یا نہیں؟
جواب: بوہری فرقہ اور آغا خانی دونوں دائرہ اسلام سے خارج ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں لہٰذا ان کے ساتھ کسی طرح کا معاملہ، لین دین، اور میل جول جائز نہیں ہے ان کے ساتھ نکاح کرنا اور ان کا ذبیحہ بھی حرام ہے۔
وفی رد المحتار: يعلم مما هنا حكم الدروز و التيامنة فانهم فی البلاد الشامية يظهرون الاسلام والصوم والصلوة مع انهم يعتقدون تناسخ الارواح وحل الخمر والزنا وان الالوهية تظهر فی شخص بعد شخص ويجحدون الحشر و الصوم والصلاة والحج وذكر فيها انهم ينتحلون عقائد النصيرية والاسماعيلية الذی يلقبون بالقرامطة والباطنية الذين ذكرهم صاحب المواقف ونقل عن علماء المذاهب الأربعة انه لا يحل اقرارهم فی ديار الاسلام بجزية ولا غيرها ولا تحل مناكحتهم ولا ذبائحهم۔
(نجم الفتاویٰ: جلد 1صفحہ 504)