شیعہ لڑکے سے نکاح کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ایک ساتھی ہیں ان سے کافی پرانی جان پہچان ہے وہ اپنی بیٹی کی شادی کر رہے ہیں لڑکا کراچی ہی کا ہے مسئلہ یہ ہے کہ لڑ کا شیعہ ہے شیعی مجالس میں بھی شرکت کرتا ہے میں نے انہیں سمجھایا کہ یہ درست نہیں تم اپنی بیٹی کی شادی کسی سنی لڑکے سے کرو شیعہ سے شادی نہ کرو آپ سے درخواست ہے کہ کیا یہ شادی درست ہے؟ شیعہ سے نکاح کا کیا حکم ہے؟
جواب: مذہب تشیع کے متبعین بہت سے گمراہ کن عقائد کے حامل ہیں اس لیے شیعہ کے لڑکے یا لڑکی سے بوجہ مفاسد کثیرہ نکاح جائز نہیں لہٰذا آپ کے دوست کو چاہئے کہ اپنی بیٹی کی شادی صحیح العقیدہ سنی لڑکے سے کریں شیعہ لڑکے سے شادی کر کے اپنی اور اپنی آنے والی نسل کی دین و دنیا برباد نہ کریں۔
لما فی المشكوة كتاب الآداب باب حفظ اللسان وعن عمرؓ قال قال رسول اللهﷺ ایمار جل قال لاخيه كافر فقد باء بها احدهما متفق عليه۔
و تحته في المرقاة وثالثها انہ محمول على الخوارج المکفرين للمؤمنين وهذا ضعيف لان المذهب الصحيح المختار الذی قاله الأكثرون أن الخوارج كسائر اهل البدء ولا نكفر قسمت و هذا فی غير حق الرافضة الخارجة فی زماننا فانهم يعتقدون كفر أكثر
الصحابةؓ فضلا عن سائر اهل السنة والجماعة فهم كفر بالاجماع بلانزاء و فی الشامية باب المرتدين) نعم لا شك فی تكفير من قذف السيدة عائشةؓ او انكر صحبة الصديقؓ او اعتقد الالوهية في علىؓ اوان عليه السلام غلط فى الوحی أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن۔
(نجم الفتاوىٰ: جلد 4 صفحہ 491)