سنی لڑکی کا نکاح جب شیعہ مرد سے ہوا تھا تو عدالتی تنسیخ…

سنی لڑکی کا نکاح جب شیعہ مرد سے ہوا تھا تو عدالتی تنسیخ درست ہے


سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلے کے بارے میں کہ عورت سنی ہے اور مرد شیعہ ہے آپس میں نکاح ہوگیا پھر عورت کو مذہب کا پتہ چل گیا تو عورت نے بذریعہ عدالت نکاح تنسیخ کرا دیا سول جج بہادر نے عورت کو آزاد کرا دیا یہ فیصلہ سول جج و دیم کا ہے شیعہ سبیّ ہے قرآنِ کریم کے 40 پارے مانتا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگاتا ہے فیصلہ ہونے کو چار سال ہوگئے ہیں اب وہ عورت نکاحِ ثانی کرتی ہے شریعت میں جائز ہے یا نہیں؟

 جواب: اس طرح کا شیعہ دار اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے لہٰذا یہ تنسیخ ٹھیک ہے عورت کو اختیار ہے کہ جس کے ساتھ ظاہر نکاح کرے بشرطیکہ عقائد اس کے یقینی ہوں۔

 (فتاویٰ مفتی محمودؒ: جلد 10صفحہ 209)