وہ شیعہ جو تحریف قرآن کا قائل ہو ان سے مناکحت جائز نہیں ہے…

وہ شیعہ جو تحریف قرآن کا قائل ہو ان سے مناکحت جائز نہیں ہے


سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین دریں مسئلہ کہ ایک لڑکی اور لڑکے کا چھوٹی عمر میں عقدِ نکاح ہو چکا ہے (مگر لڑکا جوان ہو کر سبی شیعہ ہوگیا ہے) وہ بدبخت شیخینؓ کو اعلانیہ سب کرتا ہے اور بالتحقیق یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ وہ نالائق افکِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا قائل بھی ہے اور اس کی منکوحہ موحدۃ صحیح العقیدہ ہے اور شیعہ مذہب کو نہایت بدترین طریق سمجھتی ہے کیا ان وجوہ کے ہوتے ہوئے ان کا نکاح باقی ہے یا نہیں؟ نیز ابھی تک رخصتی بھی نہیں ہوئی ہے۔  

جواب: واضح رہے کہ جو شیعہ امورِ دین میں سے کسی مسئلہ ضروریہ کا منکر ہو مثلاً: سیدنا علیؓ کی الوہیت کا قائل ہو یا جبریل علیہ السلام کو وحی پہنچانے میں غلطی کرنے کا قائل ہو یا تحریفِ قرآن کا قائل ہو یا صحبتِ صدیقِ اکبرؓ انکاری ہو یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتا ہو یا سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جائز اور کارِ خیر سمجھتا ہو تو یہ شیعہ کافر ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ارتدادِ زوج کی وجہ سے زوجین میں فرقت واقع ہوگئی ہے کسافی الھدایۃ مع فتح القدیر واذا ارتداد احد الزوجين عن الاسلام وقعت الفرقه بغير طلاق۔

اور چونکہ عورت غیر مدخول بہا ہے اس لیے بغیر عدت گزارنے کے دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے نیز زوج مرتد کے ذمہ نصف مہر ادا کرنا بھی واجب ہے۔ 

كما فی الهدايھۃ ما فتح القدير ثم ان کان الزوج ھو المرتد کل المہر ان دخل بھا ونصف المہر لم یدخل بھا ھو المصوب۔ کسی ثالث کے سامنے تحقیق کر لی جائے اگر واقعہ اسی طرح ثابت ہوا تو جوابِ بالا پر عمل کیا جائے۔ 

(فتاویٰ مفتی محمودؒ: جلد 4 صفحہ 584)