حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگانے والے سے نکاح…

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگانے والے سے نکاح کا حکم


سوال:کیا فرماتے ہیں علماءِ دین دریں مسئلہ کہ ایک سنیّ شیعہ جو کہ اصحابِ ثلاثہؓ کو سبّ کرتا ہے ان کو گالیاں دیتا ہے اور منافق کہتا ہے سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر بہتان لگانے والا اور شرک کرنے والا اور کان ما یکون کا علم جاننے والا اور قرآن اور حدیث سے صاف انکار کرنے والا کیا وہ شخص اللہ تعالیٰ و رسول اللہﷺ کے قانون کے مطابق مسلمان ہے یا کافر اور مشرک؟ اور ایک عورت جو اہلِ سنت و الجماعت عقائد رکھنے والی ہے اس کے ساتھ اس کا نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں اور نکاح بھی نا واقفیت سے نابالغی کے وقت باندھا گیا ہو تو فسخ کس طرح ہو سکتا ہے؟

جواب: حضرت عائشہ صدیقہؓ پر منافق لوگوں نے تہمت لگائی تھی اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی صفائی اور برأت ظاہر فرمائی ہے اب اگر کوئی شخص حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتان تراشتا ہے تو وہ نصِ قرآن کے انکار کی وجہ سے کافر ہے اس کا نکاح باقی نہیں رہتا مگر تحقیق لازم ہے اگر بالتحقیق معلوم ہو کہ شیعہ مذکور کے عقائد ایسے ہی ہیں تو اس کے ساتھ نکاح کے جواز کی کوئی صورت نہیں۔

(فتاویٰ مفتی محمودؒ: جلد 1 صفحہ264)