سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین دریں مسئلہ کہ اگر زوجین میں سے ایک سنی المذہب ہو اور دوسرا رافضی؟ اور وہ مندرجہ ذیل عقائد رکھتا ہے
قرآنِ شریف تحریف شدہ ہے نزولِ وحی حضورِ اکرمﷺ کے بجائے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر ہونا تھا سبِّ شیخین کو جائز سمجھنا سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے قذف کو صحیح تصور کرنا تو کیا اگر لڑکی کا باپ خود نکاح کر دے تو کیا یہ نکاح منعقد ہو جائے گا؟
جواب:جس آدمی کے مندرجہ بالا عقائد ہوں باتفاق اہلِ سنت و الجماعت کافر دائرہ اسلام سے خارج ہے ایسے آدمی سے مسلمان لڑکی کا عقدِ نکاح درست نہیں ہے اور اگر غلطی سے مسلمان لڑکی کا عقدِ نکاح اس سے کر دیا گیا ہے تو وہ نکاح منعقد نہ ہوگا یہ لڑکی طلاق حاصل کیے بغیر دوسری جگہ عقدِ نکاح کر سکتی ہے۔
(فتاویٰ مفتی محمودؒ: جلد1 صفحہ255)