سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین دریں مسلک ایک شخص نے لاعلمی کی بناء پر ایک لڑکی کا رشتہ ایک شیعہ مذہب لڑکے کو دے دیا ہے جس کے عقائد حسبِ ذیل ہیں:
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سبّ بکنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتا ہے عشرہ محرم میں سینہ کوبی کو نجاتِ اُخروی کا سبب یقین رکھتا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شانِ پاک میں ناپاکی کا تہمت دیتا ہے حضورِ اکرمﷺ کی صرف ایک بیٹی پاک مانتا ہے اور دوسری بیٹیوں کو حضورِ اکرمﷺ کی لڑکیاں نہیں مانتا ہے تو کیا عند الشریعت شریف لڑکی مذکورہ کا رشتہ نکاح ایسے شخص سے درست ہے یا نہیں اگر درست نہیں تو بغیر طلاق کے لڑکی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟
جواب: مندرجہ بالا عقائد رکھنے والا شخص بوجہ انکار قرآنِ کریم خارج عن الاسلام ہے لہٰذا اس کے ساتھ کسی مسلمان کا عقد نہیں ہو سکتا صورتِ مسئولہ میں مائی نسیم کا نکاح نابالغی میں لاعلم کی صورت میں جو اس کے باپ نے کرایا تو یہ نکاح منعقد ہی نہیں اس لیے بغیر طلاق لیے اس لڑکی کا نکاح اس کی رضامندی اور اجازت کے ساتھ دوسری جگہ کرایا جا سکتا ہے۔
(فتاویٰ مفتی محمودؒ: جلد1 صفحہ253)