سوال:کیا فرماتے ہیں علماءِ دین دریں مسئلہ کہ کسی شخص نے اپنی لڑکی کا نکاح کسی آدمی سے کرایا ہے بعد میں معلوم ہوا کہ جس نے نکاح کیا ہے وہ شیعہ ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دیتا ہے کلمہ پڑھتے وقت لا الہ الا اللہ علی ولی اللہ پڑھتا ہے اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ نہیں پڑھتا اور رسولِ اکرمﷺ کی رسالت کا انکار کرتا ہے اور وہ لڑکی بھی اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی کیا اس صورت میں اس کا نکاح قائم رہے گا یا نہیں؟ اگر نہیں رہے گا تو وہ فوراً کسی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟
جواب: اگر یہ بات صحیح ہے کہ شخص مذکور حضورِ اکرمﷺ کی رسالت کا منکر ہے تو پھر شخص مذکور دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہے اور اہلِ سنت والجماعت مسلمان لڑکی اس کے نکاح سے آزاد ہے عدت گزرنے کے بعد یہ عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں مجاز ہوگی اور جب سے یہ لڑکی اس کے گھر سے علیحدہ ہو جائے تو تین حیض عدت گزار کر دوسری جگہ حسبِ منشاء خود مسلمان مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔
(فتاویٰ مفتی محمودؒ: جلد 1 صفحہ 248)