مولانا مفتی محمود رحمۃاللہ کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع…

مولانا مفتی محمود رحمۃاللہ کا فتویٰ


سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والے شیعہ گروہ کے ساتھ نکاح کا حکم:

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک شخص نے اپنی اولاد کا رشتہ شیعہ لوگوں میں کیا ہوا ہے جس کی تمام برادری شیعہ ہے اور اس کا حقیقی بھائی بھی شیعہ ہے اور اس کا کھانا پینا بھی شیعہ لوگوں کے ساتھ اور رسومات شیعہ لوگوں کے ادا کرتا ہے مثلاً کڑھائی حضرت عباسؓ کی جو مشہور ہے وہ پکاتا ہے اور ان کی مجالس میں اصحابِ ثلاثہؓ کو جو سبّ کرتے ہیں وہ ان کو حق پر سمجھتا ہے اور ان کی مجلس میں شامل رہتا ہے اور پھر اس کی اولاد بھی یقیناً شیعہ ہے اور وہ ایسے شیعہ ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر بہتانِ عظیم بھی باندھتے ہیں اور اس اپنی اولاد کے لیے اہلِ سنت والجماعت کے آدمی سے رشتے لینا چاہتا ہے کیا اس کی اولاد کو اہلِ سنت و الجماعت کا آدمی شریعت محمدیہﷺ کے مطابق رشتے دے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب:واضح رہے کہ جو شیعہ ایسا ہو کہ ضروریاتِ دین میں سے کسی بات کا منکر ہو مثلاً اس کا عقیدہ ہو کہ (معاذ اللہ) سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر جو تہمت لگائی گئی تھی وہ صحیح ہے "وامثال ذالک" تو یہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے بناء بریں صورتِ مسئولہ اگر واقعی یہ شخص حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتانِ عظیم باندھتا ہے تو اس شخص کے ساتھ مسلمانوں کا رشتہ ناطہ کرنا جائز نہیں۔ 

(فتاویٰ مفتی محمودؒ: جلد1 صفحہ 247)