قبول حق: رابعہ سید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قبول حق: رابعہ سید

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 3

جب رابعہ سید کو شہید کر دیا گیا تو ساتھیوں نے مشورہ کیا کہ اس کے والد پر ایف آئی آر کرواتے ہیں تا کہ مکمل انکوائری ھو کیونکہ ہمارے ایک ساتھی ہیں ان کے والد پولیس میں بڑے افسر ہیں وہ کہتا تھا کہ میں اس کے والد پر کیس کرواتا ھوں اور ساری انکوائری کرواتے ہیں۔
لیکن رابعہ سید شاید اسی لیئے اپنے حالات پیج ایڈمنز اور مجھے نہیں بتاتی تھی کہ کہیں اس کے گھر والوں پر کیس نہ ہو جاۓ اور اس کی والدہ در بدر ٹھوکریں نہ کھاۓ۔ یہی رابعہ سید کا آخری پیغام تھا اور میرے ساتھ جو آخری باتیں کی یہی بتایا کہ میں نہیں چاہتی کہ میں اگر گھر سے بھاگ گئ (کیونکہ والد اتنا مارتا تھا تو والدہ بھی یہی چاہتی تھی رابعہ کہیں چلی جائے تاکہ ظالم باپ کے ظلم سے تو بچ جائے، آپ خود اندازہ لگائیں کتنا ظلم کرتا ہوگا اس کا والد رابعہ سید پر) تو میری والدہ پر سارا اٹیک آۓ گا اور میں نہیں چاہتی کہ میرے بعد میری والدہ میری طرح تکلیفیں برداشت کرے اسی وجہ سے وہ بھاگی بھی نہیں۔
پھر یہی مشورہ ہوا کہ اس کی والدہ کو تکلیف نہ ھو اسی وجہ سے ایف آئی آر نہیں کروائی۔
دوسری بات یہ کہ رابعہ سید کی انکوائری کے لیئے اس کی قبر کشائی کی جاتی تو تبھی ساری چیزیں سامنے آ سکتی تھیں ہم اس کی تذلیل نہیں چاھتے تھے۔۔۔

رابعہ کے مناظرے:

ان کا سب سے مشہور مناظرہ "ایک اسلام" نامی شیعہ سے ہوا وہ پہلے تو مان نہیں رہا تھا کہ شیعہ سے سنی کیسے ہوگیں اور ان کو کہتا رہا تمہارا فیصلہ غلط ھے تم مرتد ہوگیں رابعہ نے مناظرہ کا وقت دیا مناظرہ تحریری تھا فیس بُک پر اور رابعہ نے شرائط یہ رکھی اگر میں نے تمہیں دو منٹ میں کافر ثابت کر دیا تم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجاو گے کیا تم اس بات پر متفق ہو؟؟ اس شیعہ زاکر نے کہا دو منٹ کیا مجھے تم سارا دن اور اپنی باقی پوری زندگی اگر کافر ثابت کر دو میں حق قبول کر لوں گا اور دوبارہ کبھی تمہیں مذھب میں لوٹنے کا نہ کہوں گا بہت مشہور مناظرہ تھا ابھی یہ ایگریمنٹ ہوا رابعہ نے کہا مبارک ہو سبھی کو اس نے دو منٹ کا ٹاٸم دیا ابھی تیس سیکنٹ ہوئے ہیں وہ خود تسلیم کر رہا ہے توں مجھے کافر ثابت کر دے گی میں مسلمان ہو جاوں گا مطلب پہلے مسلمان نہیں ہے اس نے خود تسلیم کیا گروپ ایڈمن نے کہا رابعہ اپنے موقف میں ٹھیک ھیں اور اپنے دلائل سے ثابت کر چکی ھیں وہ خوب مناظرے کرتی اور لوگوں کو دلائل سے قاٸل کرتی اب شیعہ ان کو انبوکس میں فحاش تصاویر بھیجتے آج بھی شیعہ کا یہی حال ہے کسی سے علمی بات نہیں کرتے نہ کر سکتے جب باطل ہیں تو حق کے سامنے کیا بات کریں گے شیعہ مذہب ہی عبداللہ ابن سباء سے چلا، رابعہ کو مجبوراً ان شیعہ کو بلاک کرنا پڑا اور شیعوں سے مناظرہ چھوڑ دیا اس کے بعد کچھ اہلسنّت بھائی بھی ان پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے اور کچھ یہ کہنے لگے وہ مسلمان نہیں شیعہ ہی ہیں اور ان سے کہا جاتا اپنے والدین کو لعنت کریں وہ کہتی میں مانتی ہوں میرے والد مسلمان نہیں کافر ہیں لیکن میرے والدین ہیں ہیں میں لعن طعن نہیں کرتی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رابعہ کوئی پاگل یا دماغ خراب نہیں تھا جو شیعہ سے مسلمان ہوئی بلکہ پورے ہوش اور سمجھ سے اسلام قبول کیا، رابعہ سید نے اپنے نام پر پیج بنایا ہوا تھا جو آج بھی موجود ہے فیس بُک پر اور اس میں دیے ہوے مواد سے لوگ بہت مستفید ہو رہے ہیں ہاں گروپ کے لوگ ہیں اشفاق اللہ بے عباس خان ہے ان دونوں پر وہ بہت زیادہ بھروسہ کیا کرتی تھی اشفاق اللہ یوسف زئی پٹھان تھا اس نے اپنے گروپ میں زیادہ تر پٹھان لوگوں کو رکھا تھا۔
اسکی وجہ یہ بتایا کرتی تھی کہ جتنا مجھے ان پٹھان بھائیوں سے غیرت اور حیاء ملی ہے اتنی پنجابیوں سے نہیں ملی پنجابی بہن تو کہے گا لیکن اس کی باتوں سے کہیں نہ کہیں ایسی چیز محسوس ھو گی کہ یہ مجھ سے فائدہ اٹھانے والے ہیں تو اس طرح وہ پٹھانوں پر بھروسہ کیا کرتی تھی،
اللہ تعالیٰ شہیدہ فاطمہ سید کے درجات بلند کرئے اور شیعہ کے لیے یہ تحریر ہدایت کا پیغام رہے آمین


صفحہ 3 از 3