قبول حق: رابعہ سید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قبول حق: رابعہ سید

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 3

رابعہ سید گھر میں اپنے مسلمان ھونے کا اعلان کیا اعلان کیا ہی تھا کہ جس کے بعد اس کہ باپ زاکر عباس کی طرف سے ظلم کے پہاڑ توڑے جانے لگے باوجود اس کہ کے وہ انتہای لاڈلی تھی اور کافی سال تک اکلوتی بیٹی رہی لیکن درندہ صفت باپ شقی القلب نے کچھ پرواہ نہ کی اور اس کی کالج کی تمام کتب کو آگ لگا دی، اس کا کمپیوٹر توڑ ڈالا، اس کے بال انتہائی لمبے تھے جس کہ ساتھ اسے چارپائی سے باندھ دیا جاتا کمرے میں اور بجلی کی تار سے اس پر سخت تشدد کیا جاتا اور ہر کسی سے ملنے پر پابندی لگا دی گٸ، اور خاندان میں مشہور کر دیا گیا کہ اس پر جنات اور اسیب کا سایہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے کسی کے سامنے نہیں لائی جا سکتی سخت سردیو میں اس کے درندہ صفت باپ اسے بالو سے باندھ کر تارو سے اس وجہ سے پیٹتا کیونکہ اس سے تکلیف زیادہ دیر تک رہتی ہے،
لیکن رابعہ سید کی والدہ بہت روتی رہتی نرم گوشہ اپنی بیٹی کے لیے برقرار رکھا ان کی والدہ اسکول میں پڑھایا کرتی تھیں اور رابعہ سید نے ماں پر تبلیغ جاری رکھی جس کی محنت سے وہ بھی مشرف بااسلام ھوگٸ اور انہوں نے اپنے پیسوں سے رابعہ کو ایک موبائل لے کر دیا جسے وہ والد سے چھپ کر استعمال کرتی اور اسلام کی تعلیم حاصل کرتی رہی روزانہ رابعہ سید پر ایسے واقعات گزرتے کہ انسان سن نہیں سکتا اور انتہائی دکھ ہوتا کہ کیسے کیسے مصاٸب جھیلے ہیں اس معصوم نے صحابیہ کی یاد تازہ کر دی جس طرح ان پر ظلم ہوتا-
رابعہ دینِ حق مذہب اسلام جس کی تلاش میں تھی اللہ نے نصیب کر دیا مسلمان ہو گئی تو فیس بُک پر ان کا رابطہ ایک فرقان نامی لڑکے ہوا جس نے انہیں فرقہ اہل حدیث(غیرمقلد) کی کتب بھجوائیں اب وہ فرقہ غیرمقلد کا مطالعہ کرتی اور ان کے گروپ بھی جوائن کر لیے اور ان کے فرقہ میں شامل ہوگی میں بہت پریشان ہوا اور دعا کی یا اللہ اگر کفر سے نکلی ہے تو جو حق کا راستہ اسی میں داخل کر اگر یہی حق ہے تو میں بھی اہل حدیث ہو جاوں گا،
کیوں کہ اب ان کی مثال ایسی تھی آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا پس ہوا یوں کہ اسی فرقان نامی غیرمقلد سے میرا مناظرہ طے پایا مسلہ خلف الامام پر جب رابعہ نے مناظرہ میں اس فرقان نامی غیرمقلد کی شکست اور حقیقت جانی اور میں نے تو رابعہ کو مکمّل دلائل سے قاٸل کیا بہت سوال و جواب کے بعد وہ متاثر ہو کر اہلسنّت والجماعت میں شامل ہوگئی رابعہ کہا کرتی تھی کہ اہل تشیع سے بھی ذیادہ خطرہ فرقہ اہل حدیث ہے یہ اسلام کی جڑیں کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں قرآن و حدیث کے نام پر، جب رابعہ پر والد کی طرف سے ظلم و ستم تکالیف حد سے بڑھ گئی تو والدہ جو کہ سکول ٹیچر تھیں ریڑیمنٹ لے لی اس کے ساتھ رہنے لگی وہ اب جو سکھتی یا کوئی بھی مناظرہ ہوتا تو اپنی والدہ محترمہ کو بتاتی اسی محنت سے والا بھی شیعہ سے مسلمان ہوئی اور رابعہ کو موبائل ان کی والدہ نے لا کر دیا وہ والد جب کبھی باہر ہوتے تو وہ مناظرہ کرتی، جب رابعہ کے والد کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ یہ پکی اہلسنّت مسلمان ہو گئی ہے تو اس نے اس مظلوم پر ظلم کی انتہاء کر دی کچھ عرصہ کے لئے رابعہ نے ایڈی بند کر دی اور اب تکالیف میں اضافہ ہوگیا
اب اس کو چارپائی کے ساتھ باندھ کر مارتے جب کبھی گھر والے باہر جاتے اسے کمرے میں بند کر جاتے اور کسی رشتہ دار کو نہ ملنے دیتے اور سب کو یہ بتایا گیا کہ اس پر جنات کا سایہ ھے اور باہر کی چیزوں نے اس پر حملہ کیا ہوا ھے اس کو کوئی نہیں مل سکتا اور تعلیم بھی بند کروادی وہ اس وقت کالج میں بی اے کر کر رہی تھی
ایک بار والد نے زور دار پانی والا جگ مارا جس سے رابعہ کی انگلی ٹوٹ گی، رابعہ ابھی اپنی اذیتیں تکلیفیں لوگوں کو نہیں بتاتی تھی کہا کرتی تھیں کہ ایک بات کا تجربہ ہوا ہے تکلیفیں بتانے سے کم نہیں بڑھتی ہیں میرے بتانے سے آپ لوگوں کو بھی تکلیف ہوتی ہیں، والدہ مسلمان ہوگیں ان کے بھای چھوٹے تھے رابعہ پر ظلم ہوتا دیکھ کر اس کی تکالیف کو دیکھ کر بھای بھی دکھی ہوتے کچھ دن بعد پتا چلا کہ بجلی کا کرنٹ لگا لگا کر اس کے خبیث والد نے اپنی لاڈلی، لخت جگر کو شیھد کردیا
شہادت سے تین چار دن پہلے اس نے ایک پوسٹ لگائی تھی ان اہل تشیع کا کوئی عباس نامی ذاکر تھا اس کے والد کا نام بھی عباس ھے لیکن عباس نامی ذاکر کو بڑی بھیانک موت آئی تھی اس کی شکل بگڑ گئ تھی ان دنوں اس کی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی۔
رابعہ سید نے وہی تصویر فیس بک پر لگائی تو اس دن رابعہ سید نے آگے سے نعرہ نہیں لگایا اور وہ جو موبائل اتنے عرصے سے چھپا کر رکھا ھوا تھا اپنے والد سے تو اس کو اٹھایا اور والد کے سامنے وہ تصویر کی اس نے کہا کہ تیرا حشر بھی اسی طرح ہو گا جو عباس ذاکر کا ہوا ہے جب یہ بات ھوئی تو والد کو پتہ چل گیا کہ اس نے تو موبائل رکھا ہوا ہے تو اس نے اس کی والدہ کو بھی مارا پیٹا۔
خیر کیا مسلہ ہوا کیا معاملہ بنا وہ کسی کو بتاتی بھی نہیں تھی اپنا دکھ کسی کو نہ سناتی۔
وہ تصویر شاید ایک دن لگی ھے دوسرے دن وہ ڈلیٹ کر دی گئ۔
اس پیج پر جو رابعہ سید کے نام سے پیج بے جس دن اس نے وہ تصویر لگائی اسی دن اس کا اپنے والد سے مباحثہ ہوا۔
اس کی والدہ کے ذریعے مجھے معلوم ھوا جب اس کا والد آتا تو صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو گالیاں دیتا تو رابعہ سید برملا کہتی““
”مصطفٰی کے ہم سفر ابوبکر ابوبکر“
یہ نعرہ لگایا کرتی تھی اور اسی وجہ سے اسے زیادہ مار پڑتی تھی۔ میں نے اس کی والدہ سے رابطہ کیا کیوں کہ وہ اسی دن شہید ھوئی تھی لیکن کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
تو رابعہ سید کی دوست اور ایک اور فاطمہ نامی دوست کی آئی ڈی تھی جو ملتان کی رہنے والی تھی اس نے مجھے بتایا کہ یہ معاملہ بنا بے، اور ان کو رابعہ سید کی والدہ نے بتایا کہ یہ یہ مسئلے بنے ہیں۔
کہ "رابعہ سید کو مارا پیٹا گیا ہے اس کو بجلی کے کرنٹ لگاۓ گئے ہیں اور تب تک نہیں چھوڑا گیا جب تک اس کی آخری سانس پرواز نہیں کر گئ ۔ رابعہ سید کا اتنا میسج ملادیا۔ کہ دعاٶں میں یاد رکھنا میں دو تین دن کے لیئے فیس بک پر نہیں آ سکوں گی اس طرح کی آخری پوسٹ جو آپ لوگوں نے پڑھی ہو۔
اس کے تین دن بعد پتہ چلا کہ شہید کر دی گئ ہے مجھے یہ سب رابعہ سید کی دوست کے ذریعے پتہ چلا۔
یہ تھی ساری کہانی رابعہ سید کی تفصیلانا تو ایسی کہانی ھے کہ بچپن میں میں اتنا اپنی ماں کے دودھ کے لیئے نہیں رویا ہوں گا کہ جیسے چھوٹا بچہ جب اسے بھوک لگتی ھے تو وہ بول نہیں سکتا تو اس کے پاس بس ایک ہی ہتھیار ہے رونا تو وہ روتا ھے تو اس کی والدہ اسے دودھ دیتی ھے۔
تو میں اتنا اپنی والدہ کے دودھ کے لیئے نہیں رویا جتنا رابعہ سید کی باتیں سن کر روتا تھا تو کچھ تو واقعات بھول گئے کچھ سنا نہیں سکتا کچھ سنانے کے قابل نہیں مختصرا یہ جو میں نے آپ کو بتا دیا۔
رابعہ سید کہا کرتی تھی میرے اگر سو بیٹے ہوں تو سب کے نام ابوبکر رکھوں گی، اتنا پیار ہوا پھر صحابہ کرام سے اور اسی پر تو شیعہ سنی لڑائی ہے شیعہ ان کو کافر، مرتد، جھوٹا جہنمی کہتے ہیں اور قرآن ان کو سچا، مسلمان، جنتی کہتا ہے، یہی تو ہم تک دین پہنچانے کا زریعہ بنے شیعہ ان ہر طرح طرح کے الزامات لگا کر ان دین اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں، کیا رسول اللہ کی تربیت یافتہ ایسے ہو سکتے ہیں جیسا شیعہ کہتے ہیں؟؟

صفحہ 2 از 3