صحابہ کرام و خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے متعلق ضروری…

صحابہ کرام و خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے متعلق ضروری عقائد

  امام اہلسنت علامہ عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ

صفحہ 2 از 2
اول جنگ جمل: جس میں ایک جانب حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری جانب ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی عنہا تھیں اور ان کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تھے جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ، دونوں جانب اکابر صحابہ تھے م، مگر یہ لڑائی دھوکہ میں چند مفسدوں کی حیلہ سازی سے پیش آگئی ورنہ ان میں باہم رنجش نہ تھی، نہ آپس میں لڑنا چاہتے تھے۔
مفسدوں کی فتنہ پردازی ہوئی
باعث خونریزی جنگ جمل
ورنہ شیر حق سے طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ
چاہتے ہرگز نہ تھے جنگ و جدل
اس لڑائی میں ہر فریق سے دوسرے کے فضائل منقول ہیں۔
دوم جنگ صفین: جس میں ایک جانب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ، دونوں صحابی رسولﷺ اور جلیل القدر صحابی ہیں اور دونوں میں لڑائی کوئی زاتی مفادات کے نہیں تھی دونوں کے لشکر میں باغی لوگ موجود تھے حقیقتاً باغی وہی تھے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل تھے اور بغاوت کر کے شہید کیا، یہ دونوں جنگیں عبداللہ ابنِ سباء یہودی کی تخریب کاری اور سازش سے رونما ہوئی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ صاحبِ فضائل ہیں
حضرت شیخ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ ازلۃ الخفاء میں فرماتے ہیں:
جاننا چاہیئے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اعلیٰ آنحضرتﷺ کے ایک صحابی تھے اور زمرہ صحابہ میں بڑی فضیلت والے تھے، خبردار ان کے حق میں بدگمانی نہ کرنا اور ان کی بدگوئی میں پڑ کر فعل جرائم کے مرکتب نہ بننا۔
اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ باغی ہوتے جیسے کچھ نام نہاد اہلسنت شہرت پرست ممبروں پر دن رات ہانکتے ہیں تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان کی صلح و بیعت ہرگز نہ کرتے۔
عقیدہ:
فرقہ روافض جو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حتیٰ کے مہاجرین و انصار کی بدگوئی کرتا ہے اور ہجرت و نصرت کو فضیلت کی چیز نہیں کہتا گویہ صریح خلاف وزری قرآن مجید کی ہے اور اس کا لازم نتیجہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی نبوت اور دلائل نبوت مشکوک ہو جائیں لیکن اس بناء پر ان کو کافر کہنا خلاف احتیاط ہے، اہلِ سنت کا مسلک یہ ہے کہ جب تک صریح انکار ضروریاتِ دین کا نہ ہو اس وقت تک کسی کلمہ گو کو کافر کہنا ناجائز ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ہم اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہیں کہتے۔‘‘
روافض کا کفر اس بنیاد پر قطعی ہے کہ وہ قرآن مجید کی تحریف کے قائل ہیں اور معاذ اللہ اس کو اصلی قرآن نہیں مانتے۔
یہ بارہ عقیدے جو بیان کیے گئے اہلسنت کے لیے نہایت ضروری ہیں ان میں اکثر و بیشتر عقیدے وہ ہیں جن کا ماخذ قرآن مجید ہے۔
حق تعالیٰ ہم سب کو ان پاک عقائد پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین

صفحہ 2 از 2