سوال نمبر 1: ایک جماعت قرآنِ پاک کے متعلق یہ اعتقاد رکھتی ہے کہ قرآن کے چالیس پارے ہیں، تیس پاروں کا تو علم سب پر ظاہر ہے اور دس پاروں کا علم صرف ہماری جماعت کو ہے اور کسی کو نہیں کیا اس قسم کا اعتقاد رکھنے والا فرقہ مسلمان ہے؟
4: یہی فرقہ، قبر یا مزار کو سجدہ تعظیمی معیوب نہیں، بلکہ ضروری تصور کرتے ہیں اور ایسا نہ کرنے والوں کو اچھا خیال نہیں کرتے ایسے ہی زندہ پیروں کے قدموں پر سر رکھنا ضروری سمجھتے ہیں خاص طور سے عورتوں کے لیے ان دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے؟ نیز ان سے اپنے رشتہ داری کے تعلقات رکھنا روا ہے یا نہیں؟
5: یہی فرقہ ہر ہفتہ مزار پر اپنے اپنے کھانے لے جاتے ہیں اور سال بھر میں 6 ربیع الثانی کو سالانہ عرس کرتے ہیں، چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور خصوصی طور پر کھانے تیار کرتے ہیں اور وہی کھاتے پیتے ہیں ان کا ایسا کرنا کہاں تک درست ہے؟
ہر ایک مسئلہ کا الگ الگ حکم تحریر فرمائیں نیز یہ بھی تحریر فرمائیں کہ کون سی صورت میں رشتہ داری اور تعلقاتِ شرعی ان کے ساتھ جائز ہو سکتے ہیں؟
جواب نمبر 1 :جو قرآن حضورﷺ کے وقت سے امت میں برابر شائع ہے تلاوت کیا جاتا ہے مصاحف میں لکھا ہوا ہے وہ سب متواتر اور قطعی ہے اس کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا کہ اس میں سے دس پارے غائب ہیں ان کا کسی کو علم نہیں وہ صرف نیا ایک فرقہ پیدا ہونے والے کے پاس ہے یہ عقیدہ غلط ہے اس لیے کہ ایسا عقیدہ رکھنا قرآن کی آیت سے متصادم ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞
(سورۃ: الحجر آیت 9)
اس کے ماننے والے لوگ تواترِ قطعی کے منکر اور اسلام سے خارج ہیں ان سے مناکحت اہلِ اسلام کے لیے حرام ہے۔
4: قبروں کو سجدہ تعظیمی کرنا حرام ہے زندہ پیر کو بھی سجدہ تعظیمی کرنا حرام ہے عورتوں کو پیروں کے قدموں پر سر رکھنا دوہرا گناہ ہے۔بیعت کرنے سے پیر محرم نہیں بن جاتا ایسے فرقے سے پورا پرہیز لازم ہے۔
5: ان کا ایسا کرنا جہالت ہے، ضلالت ہے ہرگز ان کا ساتھ نہ دیا جائے اہلِ علم اور متبع سنت حضرات کے ذریعے ان کو فیمائش کی جائے۔
(فتاویٰ محمودیہ: جلد 2صفحہ 39)