سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارے امام صاحب نے سنی لڑکی کا نکاح شیعہ لڑکے سے پڑھایا اور وہ کہتے ہیں کہ مجھے علم نہیں تھا کہ یہ لڑکا شیعہ ہے۔ اب ہمارے لیے اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: اگر امام کو اس شیعہ کے عقائدِ مثلاً حضرت عائشہ صدیقہؓ پر قذف لگانے یا تحریفِ قرآن کے قائل ہونے یا حضرات شیخینؓ کی صحابیت کا انکار کرنے یا حضرت علیؓ کی الوہیت کے قائل ہونے یا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وحی میں غلطی کی وغیرہ کا علم تھا تو اس پر توبہ کرنا ضروری ہے اور توبہ کے بعد اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے۔
عربی عبارت:
نعم لاشك في تکفیر من قذف السيدة عائشة او انكر صحبة الصديق او اعتقد الالوهية في علي او ان جبرئیل غلط في الوحي او نحو ذلک من الكفر الصريح المخالف للقرآن.
(رد المحتار: جلد 3 صفحہ 321)
(ارشاد المفتین: جلد 1 صفحہ 479)