مفتى حميد اللہ جان رحمۃاللہ کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع…

مفتى حميد اللہ جان رحمۃاللہ کا فتویٰ


شیعہ کے ساتھ رشتہ کرنا:

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک آدمی اقرار کرتا ہے کہ میں سیدنا صدیق اکبرؓ کو پہلا خلیفہ تسلیم کرتا ہوں اور حضور اکرمﷺ کے تمام صحابہ کرام و صحابیات کو سرکار دو عالمﷺ کا پیروکار تسلیم کرتا ہوں اور نہ میں کسی پر اعتراض کرتا ہوں، جن صحابہ کرام کے درمیان جنگ ہوئی۔ اگر ان میں سے کوئی خطا پر تھا تو وہ اجتہادی خطا تھی، اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں بلکہ وہ مجتہد تھے۔ اس بناء پر وہ سب حق پر تھے شرعی حیثیت سے تقیہ کا کوئی ثبوت نہیں، میرا عقیدہ ہے کہ جو تقیہ کرتا ہے وہ شریعت کے خلاف کرتا ہے۔ سینہ پیٹنا، کپڑے پھاڑنا اور سر پر مٹی وغیرہ ڈالنا یہ سب امور شرعاً ممنوع ہیں اور موجودہ رسم و رواج جو اہل تشیع میں پائے جاتے ہیں ان کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی بلحاظ عقائد کے میں اہل تشیع کے عقائد کے سات متفق ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے تہ دل سے اقرار کرتا ہوں کہ میرا عقیدہ اہل سنت والجماعت والا عقیدہ ہے۔

 نوٹ:حضرت امیر معاویہؓ رسول اللہﷺ کے صحابی ہیں۔ ان کے ایمان میں کوئی شک نہیں۔ کیا جس آدمی کے یہ عقائد ہوں اسے شیعہ کہا جا سکتا ہے؟ کیا اس کے ساتھ رشتہ کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

جواب:مذکورہ بالا عقائد کا حامل شخص اگر ضروریات دین میں سے کسی کا بھی منکر نہیں تو یہ شخص کافر نہیں ہے، اگر اس پر شیعہ مذہب کے آثار ابھی باقی ہیں تو اس سے رشتہ کرنے سے احتراز کرنا چاہئے۔ کیونکہ یہ لوگ تقیہ کو بطور حربہ استعمال کرتے ہیں۔

(ارشاد المفتین: جلد 1 صفحہ 446)