سوال:میں نے اپنی لڑکی کی شادی نا آشنائی میں ایک جگہ کی جس وقت میری لڑکی اپنے سسرال کو گئی تو پتہ چلا کہ وہ دوسرے مسلک کے آدمی ہیں یہ بھی نہیں طے کر سکتا کہ وہ کون سا مسلک ہے جس کی وہ اقتداء کرتے ہیں ایک روز کا واقعہ ہے کہ انہوں نے صبح کو میری لڑکی سے کہا کہ روزہ رکھو میری لڑکی نے کہا ہم نے کہیں ایسا روزہ نہیں رکھا ان لوگوں نے روزہ رکھا اور عصر کے بعد افطار کرلیا میری لڑکی کو بہت زیادہ مطعون کیا ان کے بڑے بھائی کے گھر میں شیعہ لڑکی ہے ان کا کوئی طریقہ مسلمانوں جیسا نہیں ہے نماز کا آج تک ثبوت نہیں ملا کہ کبھی انہوں نے پڑھی ہے۔
اس کے بارے میں بہت زیادہ متفکر ہوں کہ میں کیا طریقہ اختیار کروں جھوٹ بہت زیادہ بولتے ہیں اب عرض یہ ہے کہ اپنی لڑکی وہاں بھیجوں یا نہیں؟ یا یہی مناسب ہے جس طرح ہوگیا؟ خیال ایسا ہے کہ شاید نباہ نہ ہو سکے۔
جواب:بغیر تحقیق و تفتیش کے لڑکی کی شادی کر دینا غیر دانشمندانہ فعل ہے جس سے لڑکی کی زندگی بھی تباہ ہوسکتی ہے دین بھی خراب ہوسکتا ہے اب تحقیق کی جائے اگر شوہر کے عقیدے اسلامی عقیدے نہیں نماز کو فرض نہیں کہتے روزہ کو محض عصر کے بعد تک کہتے ہیں غروب تک نہیں کہتے تو ایسے شخص سے نکاح ہی درست نہیں لڑکی کو وہاں سے علیحدہ کر لیا جائے۔
(فتاویٰ محمودیہ: جلد 11 صفحہ 458)