سوال:ایک سنی عورت کا نکاح ایک سنی مرد سے ہوا اور عرصہ تقریباً آٹھ نو سال آباد رہی مگر شامتِ اعمال سے وہ مرد سنی مذہب کو ترک کر کے مذہبِ شیعہ تبرائی میں داخل ہوگیا اور خلفاءِ ثلاثہؓ کے حق میں بیباکانہ ظالم اور غاصب الفاظ تک (العیاذ باللّہ) استعمال کرنے لگا چونکہ عورت اپنے مذہب اہلِ سنت و الجماعت پر قائم تھی اس لیے اس سے متنفر ہوگئی اور دونوں میں باہمی مذہبی اختلاف اور ناچاقی شروع ہوگئی آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ شیعہ مرد نے تنگ آکر عورت کو طلاقِ مغلظہ دے دی اور عورت میکے چلی گئی لیکن گواہانِ طلاق اہلِ تشیع ہیں جو مذہبی پاسداری کے سبب سے قاضی کے سامنے گواہی دینے سے انحراف کرتے ہیں کہ ہمارے شیعہ مذہب میں طلاقِ مغلظہ واقع نہیں ہوتی بعد ازاں مرد شیعہ نے ایک شیعہ عورت سے نکاح کر لیا اور عرصہ تک وہ بھی اس کے ساتھ آباد رہی آخر اس کو بھی بوجہ کسی نااتفاقی کے گھر سے نکال دیا اب پھر وہ شیعہ مرد اس پہلی عورت سنی کواپنے گھر آباد کرنے کے لیے لے جانا چاہتا ہے۔
کیا ایسا شخص جس کا مذکورہ حال ہے وہ اس سنی عورت کو آبادی کے واسطے اپنے گھر شرعاً لے جاسکتا ہے؟ اور ایسے تبرائی کا نکاح سنیہ عورت حنفیہ سے رہ سکتا ہے یا باطل ہو جاتا ہے؟ اور اس میں قضاءِ قاضی کی بھی شرط ہے یا نہیں؟
جواب: مسلمان کو کافر کہنا کفر ہے اور خلفاءِ ثلاثہؓ کے اسلام اور ایمان پر اجماع ہے ان کو کافر کہنا بالیقین کفر ہوگا اور ان حضرات کی خلافت بھی اجماعی ہے لہٰذا ان حضرات کے حق میں ظالم اور غاصب وغیرہ الفاظ کا استعمال بھی خلافِ اجماع ہے لہٰذا کفر ہے۔
اور شوہر کے مرتد ہونے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے قضاءِ قاضی کی شرط نہیں مدخولہ پر عدّت واجب ہوتی ہے اور پورا مہر اس کو دلایا جاتا ہے اور غیر مدخولہ پر عدت واجب نہیں ہوتی اور نصف مہر اس کو دلایا جاتا ہے لہٰذا عدت گزر چکی ہے تو اس عورت کو دوسرے سے نکاح کرنا درست ہے اس شیعہ کے پاس کسی طرح جانا جائز نہیں۔
(فتاویٰ محمودیہ: جلد 2 صفحہ 559)