سوال: ایک شخص نے ساروہ بل کے ابتدائے زمانہ میں اپنی نابالغہ کا نکاح ایک شخص کے لڑکے نابالغ کے ساتھ کردیا تھا لیکن بعد کو معلوم ہوا کہ یہ دوسرا شخص مذہباً شیعہ اور فرقہ تبرائیہ میں سے ہے اور لڑکی بالغ ہونے کے بعد اس لڑکے کے یہاں گھر رہ کر بھی آئی ہے لیکن لڑکے کو اتنا خبط الحواس پایا کہ جس سے توقع بھی نہیں کی جا سکتی کہ وہ لڑکی کا پیٹ مانگ مانگ کر بھر دے اور قُوی کے اعتبار سے اتنا ضعیف کہ نہ گفتگو کرسکے اور نہ بیوی سے جماع کر سکنے پر قادر ہے اب جواب طلب امر یہ ہے کہ اس لڑکی کا نکاح نابالغیت میں لڑکے نابالغ سے جو مذہباً شیعہ اور فرقہ تبرائیہ میں سے ہے صحیح اور درست ہو گیا یا نہیں؟
جواب:فرقہ تبرائیہ کی تکفیر میں اکثر علماء کی تصریحات موجود ہیں جیسا کہ: ردالمختار کے صفحہ 46 جلد 3 میں ان کے کفر پر فتویٰ موجود ہے اس کے علاوہ مندرجہ ذیل جلیل القدر علماء نے ان کے عقائد کے مطالعے کے بعد انہیں کافر قرار دیا ہے امام ابنِ حزم اندلسیؒ نے الملل والاھواء والنحل کے صفحہ 81 جلد 3 پر شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے غُنیۃ الطالبین کے صفحہ 163 پر قاضی عیاض مالکیؒ نے الشفاء کے صفحہ 286 جلد 2 پر ملا علی قاریؒ نے مرقاۃ المفاتیح شرح المصابیح کے صفحہ 48 جلد 4 پر جماعتِ علمائے ہند نے فتاویٰ عالمگیری کے صفحہ 268جلد 4 پر فتاویٰ تحریر کر دیے ہیں مگر بعض نے انکار بھی کیا ہے
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں زوجہ کو چاہیے کہ عدالت مسلمہ میں مقدمہ پیش کرے کہ یہ شخص میرے حقوق ادا نہیں کرتا حاکم مسلم واقعات کی تحقیق و تفتیش کے بعد اگر زوجہ کا مطالبہ صحیح ثابت ہو تو شوہر سے طلاق دلا دے یا خلع کرا دیں یا نکاح فسخ کر دیں۔
(فتاویٰ محمودیہ: جلد 11صفحہ 454)