سوال: ایک شخص نے اپنی لڑکی کا رشتہ دیتے وقت ان کے مذہب شیعہ ہونے پر انکار کر دیا مگر رشتہ لینے والے نے چند آدمیوں کے سامنے حلفاً اقرار کیا کہ میں شیعہ ہرگز نہیں ہوں اس کے بعد اس نے رشتہ کیا دونوں طرف سے نکاح ہو گئے یعنی رشتہ دینے والے نے اپنی نابالغ لڑکی کا رشتہ ان کو دے دیا کچھ عرصہ بعد وہ زوجہ کو اپنے والدین کے پاس لے جانے کے بہانے اسے گھر لے گیا اور پھر زوجہ کو بالکل محصور رکھا اور اسے شیعیت پر مجبور کیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر سبِ وشتم کرنے لگے اور زوجہ کو کہنے لگے کہ تو بھی سبِ وشتم کر چونکہ وہ اہلِ سنت و الجماعت تھی وہ انکار کرتی رہی وہ لڑکی کو اس کے والدین سے بھی نہیں ملنے دیتے تھے بہت کوششوں سے اس کا باپ گھر لے آیا ایک لڑکا اس کا تھا وہ بھی انہوں نے جبراً چھین لیا اب عورت مذکورہ خاوند کے پاس نہیں جانا چاہتی اور نہ باپ شیعہ سبی ہونے کی وجہ سے بھیجنا چاہتا ہے تو اب شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب:صورتِ مسئولہ میں اس نے اپنے آپ کو سنی ظاہر کر کے نکاح کیا ہے لڑکی اور اس کے وارثان کو اس کے شیعہ ہونے کا علم نہ تھا بلکہ اس نے حلفاً بیان کیا کہ میں سنی ہوں لہٰذا یہ نکاح غیر کفو میں ہونے کی وجہ سے فسخ کرسکتا ہے ہر وہ حاکم مجسٹریٹ یا جج جو مسلمان ہو اس نکاح کو فسخ کر سکتا ہے اسی مضمون کی درخواست لڑکی کے والد کی طرف سے دینی لازم ہے بغیر قضاءِ قاضی فسخ نہیں ہوسکتا۔
(خیر الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 529)