شیعوں کے ساتھ مناکحت کا حکم
سوال: ایک امام و خطیب نے شیعہ فرقہ کے ساتھ وسیع تعلقات قائم کر رکھے ہیں یہاں تک کہ خود بھی ان کی شادیوں میں شریک ہوتا ہے اور ان رافضیوں تبرائیوں کو بھی اپنے بچوں کی شادی میں بلاتا ہے اہلِ محلہ جب اعتراض کرتے ہیں تو شرعی جواز پیش کرنے سے عاجز آ کر اِدہر اُدہر کی باتیں کرتا ہے یا یہ کہہ دیتا ہے کہ شیعہ لوگ میری امداد کرتے ہیں بعض اہلِ محلہ اس کی دینی بےحمتی تدہین کی بناء پر اس کے پیچھے نماز پڑھنا نہیں چاہتے ان کا مطالبہ یہ ہے کہ اہلِ تشیع سے اپنے جملہ تعلقات منقطع کر دیں اور اعلان کرے کہ میں آئندہ کے لیے اہلِ تشیع سے کسی قسم کے مراسم نہیں رکھوں گا کیونکہ شیعوں سے مراسمِ اسلامیہ رکھنا اور ان کی غمی شادی میں شریک ہونا نا جائز ہے اس پر وہ لوگ (اہلِ محلہ) امام اہلِ سنت حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کا ایک مستند اور جامع فتویٰ پیش کرتے ہیں جس کو تیس علمائے دیوبند کی تائید حاصل ہے۔
جن عبارات سے اہلِ تشیع سے مقاطعت پر استدلال کیا جاتا ہے وہ عبارات و اقتباسات پیش کرتا ہوں تا کہ مسئلہ کی حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے اور فتویٰ کے بعد کسی فریق کو کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے۔
1: ایک تو اس فتویٰ کا نام ہی ہے "شیعہ اثناء عشریہ کے کفر و ارتداد کے متعلق علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ" جب اثناء عشریہ مرتد ہیں تو مرتدین سے اسلامی مراسم قائم رکھنا کیسے جائز ہے؟
2: اس فتویٰ کے ضرورتِ اشاعت کے متعلق امام اہلِ سنت لکھتے ہیں کہ بعض برادرانِ اسلامی کو دیکھ کر صدمہ ہوا کہ اہلِ سنت و الجماعت بوجہ ناواقفیت کے شیعوں کو مسلمان سمجھ کر ان کے ساتھ مناکحت تک سے پرہیز نہیں کرتے بالآخر جن کے تلخ ترین نتائج سوہان روح ہوتے ہیں یہاں تک کہ یہی مسلمان شیعوں کو مسلمان سمجھ کر ان کا ذبیحہ استعمال کرتے ہیں لہٰذا بعض حضرات کا اصرار ہوا کہ علماءِ کرام کا متفقہ فتویٰ شیعوں کے متعلق شائع کیا جائے تاکہ فسادات کا سدِ باب ہو عقیدہ تحریفِ قرآن کے ظاہر ہونے کے بعد شیعوں کی تکفیر میں کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا اور یہ ظاہر ہے کہ تحریفِ قرآن کا قائل کافر ہیں امید ہے کہ برادرانِ اسلام اس مختصر مگر مستند فتویٰ کے دیکھنے کے بعد شیعہ اثناء عشریہ رافضیہ سے تمام مراسمِ اسلامیہ بالخصوص مناکحت، ذبیحہ، شرکت جنائز سے پرہیز کریں۔
3: الاستفتاء ہمارے ملک میں جو شیعہ فرقہ اثناءِ عشریہ ہے یہ مسلمان ہیں یا کافر؟ ان کے ساتھ مناکحت جائز ہے یا نہیں؟ ان کا ذبیحہ حلال یا نہیں؟ ان کی جنازہ کی نماز پڑھنا یا اپنے جنازہ میں شریک کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: شیعہ اثناءِ عشریہ رافضیہ قطعاً خارج از اسلام ہیں تمام محققین ان کی تکفیر پر متفق ہو گئے ہیں ضروریاتِ دین کا انکار قطعاً کفر ہے اور قرآن شریف ضروریاتِ دین میں سے اعلیٰ اور ارفع چیز ہے، اور شیعہ بلا اختلاف ان کے مقدمین اور متأخرین سب کے سب تحریفِ قرآن کے قائل ہیں لہٰذا شیعوں سے مناکحت ناجائز ان کا ذبیحہ حرام اور ان کا چندہ ناجائز ہے اور ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو اپنے جنازہ میں شریک کرنا قطعاً ناجائز ہے سنی جنازہ میں یہ لوگ میت کے لیے بددعا کرتے ہیں۔
4: شیعوں کا سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت کا منکر ہونا سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر قذف کرنا کفر ہے علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃاللہ فتاویٰ شامی: جلد 3 صفحہ 294 لکھتے ہیں: لاشک فی تکفیر من قذف السيدة عائشة او انكر صحبة الصديق۔
دوسری جگہ علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃاللہ فتاویٰ شامی: جلد 2 صفحہ 683 پر لکھتے ہیں کہ جو کلامُ اللہ کی تحریف کا قائل ہو وہ مرتد اور کافر ہے اہلِ کتاب نہیں ان سے مناکحت اور تعلقات رکھنا سخت حرام ہے لہٰذا شادی و غمی میں شرکت نہ کی جائے ایسے عقیدہ کے لوگ کافر ہی نہیں بلکہ اکفر ہیں۔
5: عقائدِ مذکورہ فی السوال کے روافض صرف مرتد اور کافر خارج از اسلام ہی نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن بھی اس درجہ کے ہیں کہ دوسرے فرقے اسلام دشمنی میں شیعوں سے کم نکلیں گے مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے مراسم اسلامی ترک کرنا چاہیے۔
6: شیعہ روافض کے متعدد فرقے ہیں اور ان کے مختلف عقائد اور ظنونِ باطل ہیں بعضوں کی تکفیر واجب ہے جیسے اثناء عشریہ ہیں اس لیے ان سے مناکحت ناجائز بلکہ تمام اسلامی مراسم کا ترک کرنا ضروری ہے۔
7: شیعہ اپنے عقائد کی بناء پر اسلام سے خارج اور کافر ہیں لہٰذا ان سے اسلامی مراسم مثلاً: مناکحت قربانی و ذبیحہ استعمال کرنا جنازہ پڑھنا اور ان کو اپنے جنازہ میں شریک کرنا ان کو اپنے نکاحوں میں گواہ بنانا مسجد ک لیے چندہ لینا وغیرہ کا ترک واجب ہے جو شخص شیعوں سے ترک مراسم نہیں کرتا وہ اسلام سے خارج ہے اور ان ہی جیسا کافر ہے۔
8: شیعہ واقعی کافر ہیں کیونکہ وہ قذف ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ اور سبِ شیخین کے علاوہ تحریف فی القرآن کے قائل ہیں۔
بناء بر اختصار ان عبارات پر اکتفاء کیا جاتا ہے اب یہ فتویٰ صادر فرمائیں کہ اہلِ محلہ کا مطالبہ صحیح ہے یا غلط؟
جواب: اہلِ تشیع سے امام صاحب کا اس قدر میل جول کسی صورت درست نہیں اہلِ محلہ کا مطالبہ صحیح ہے جب تک امام صاحب کے بارے میں اطمینان نہ ہو جائے ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے احتیاط کی جائے جو ضروریاتِ دین کا منکر ہو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔
(خير الفتاوىٰ: جلد 2 صفحہ 365)