مفتی محمد شفیع رحمۃاللہ کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

مفتی محمد شفیع رحمۃاللہ کا فتویٰ


فرقہ آغا خانی سے نکاح کرنا:

سوال: شخصے از فرقہ اسماعیلیہ آغا خانیہ بازذے سنی حنفی مذہب نکاح نمودہ ازاں سہ فرزند متولد شدہ است اکذوں زوجہ مذکورہ شنیدہ کہ نکاح مرد مذکور ہامن صحیح نہ شدہ است لہٰذا از قبول کردن مرد آغا خانی انکار ورزیدہ اور انھرد وخود نخواھد تراشت آیا باعتبار شرح نکاح مردن مذکور بازن مذکورہ صحیح شدہ است یا نہ؟ نیز اولاد ثلاثہ حوالہ مادر کردہ شود یا نہ؟  

جواب: صحیح اور مکمل جواب تو فرقہ آغا خانیہ کے مخصوص عقائد معلوم ہونے پر ہو سکتا ہے اجمالاً یہ ہے کہ اگر یہ فرقہ ضروریاتِ دین اور اسلام کے مسائلِ قطعیہ کا منکر ہے تو یہ بااتفاق کافر ہے مثلاً سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت کا قائل ہو یا قرآنِ مجید کے بارے میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کی غلطی کرنے کا قائل ہو یا سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے صحابی ہونے کا منکر ہو وامثال ذالک تو یہ شخص بلاشبہ کافر ہے اور مسلمان عورت کا نکاح کافر سے منعقد نہیں ہوسکتا لہٰذا یہ نکاح باطل ہے اور جو اولاد پیدا ہوئی وہ اپنی والدہ کے حوالے کر دی جائے گی اور زوجین میں تفریق کر دینا ضروری ہے اور اگر اس فرقے کے عقائد میں کوئی چیز قطعاتِ اسلامیہ کے خلاف نہیں تو نکاح درست و صحیح ہوگا اب بجز طلاق کے کوئی مخلص نہیں لما فی الشامی نعم لا شك في تكفير من قذف السيده عائشة او انكره صحبة الصديق او اعتقد اولوهيه علی او أن جبرائيل عليه السلام غلط فی الوحی او نحو ذلك من الكفر الصريح الخ۔

 نوٹ:بعد میں آغا خانیہ کے عقائد ان کی کتابوں سے بعض لوگوں نے نقل کر کے بھیجے جس میں ایسے صریح عقائد کفریہ بھرے ہوئے ہیں کہ کسی تاویل کی گنجائش نہیں اس لیے یہ لوگ بلاشبہ کافر ہیں۔

(امداد المفتین: جلد2 صفحہ 132)