سوال: زید شیعی المذہب نے خالد سنی المذہب کو یہ باور کرا کے کہ میں سنی المذہب ہوں اور حلفاً اس کی تصدیق کر کے خالد کی دخترِ نابالغہ ہندہ سے عقد کیا خالد نے باعتبار اس کے بیان و تصدیق حلفی کے زید کو سنی المذہب سمجھ کر اپنی لڑکی کا عقد زید سے کر دیا عقد کے بعد زید کے افعال مثلِ تعزیہ و شدۃ پرستی بہ یوم عاشورہ ماتم سینہ زنی وغیرہ وقوع میں آئے کہ جس کے لحاظ سے زید کے وطن کے قاضی وغیرہ سے مذہبی حالت دریافت ہوئی تو معلوم ہوا کہ زید واقعی شیعی المذہب گروہ شیعانِ وطن سے ہے پس بالحاظ احکامِ فقہ حنفی جو نکاح دختر خالد کا زید شیعی المذہب کے ساتھ ہوا ہے شرعاً وقوع پذیر ہوگا یا نہیں؟ بصورتِ واقع ہونے کے خالد پدرو ولی ہندہ نابالغہ اس عقد کو فسخ کالعدم کرانے کا مجاز ہے یا نہیں؟ ایسا عقد بحکمِ قاضی یا حاکم کالعدم کرانا ضروری ہوگا یا خود بخود کالعدم و باطل قرار پائے گا؟
جواب: فی الدار المختار عن فتح عن القدیر عن النوازل:
لوزوج ابنته الصغيرة ممن ينكر انه يشرب المسكر فاذا هو مد من له وقالت لا ارضى بالنكاح اى بعد ماكبرت ان لم يكن يعرفه الاب بشربه وكان غلبة اهل بيته صالحين فالنكاح باطل وفيه ثم اعلم ان مامر عن النوزل من ان النكاح باطل معانه انه سيبطل وفی الدار المختار و لوزوجوها (اى الكبيرة) برضاها ولم يعلموا بعدم الكفاءة ثم علموا الاخيار لاحد الا اذا شرط و الكفاءة او اخبرهم بها وقت العقد فزوجوها علىٰ ذلك ثم ظهرانه غير كفء كان لهم الخيار، ولو الجية، فليحفظ۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ صورتِ مسئولہ میں ولی منکوحہ کو بھی اور اسی طرح بعد بلوغ کے خود منکوحہ کو بھی اس نکاح کے فسخ کرانے کا اختیار حاصل ہے اور یہ فسخ بحکمِ حاکم ہوگا۔
(امداد الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 482)