سوال: ایک نابالغہ لڑکی کا نکاح غیر کفو میں ماں نے کر دیا کیونکہ باپ بھائی چچا وغیرہ کوئی رشتہ دار نہیں ہے ابھی لڑکی بالغ نہیں ہوئی مگر معلوم ہوا کہ لڑکا جس کے ساتھ نکاح کیا گیا ہے نہایت آوارہ بدچلن اور شیعہ مذہب ہے اس نکاح کو لڑکی کے جوان ہونے کی وجہ پر اجازت دینے پر موقوف کہیں گے یا ولی نہ ہونے کی وجہ سے غیر کفو آوارہ ہونے کی وجہ سے باطل و کالعدم یا سنی شیعہ کے تفرقہ کی وجہ سے نکاح کا انعقاد ہی نہ ہوگا اگر شقِ ثالث ہے تو کیا مطلق شیعہ کا سنی سے نکاح نہیں ہو سکتا خواہ تفضیلہ یا سبیہ یا غالیہ؟ حالانکہ تفضیلیہ پر کفر کا فتویٰ نہیں سبیہ کی تکفیر بھی (مختلف فیہ) ہے اور نیز ممکن ہے کہ مرد اپنا نکاح قائم رکھنے کی وجہ سے تقیہ اپنے آپ کو سنی یا کم سے کم شیعہ تفضیلیہ بتائے (یہ صورت واقع ہوئی ہے کہ خاوند نہایت ظالم اور ان یتیم بچیوں کو مارتا پیٹتا ہے جن کی ماں نے دھوکہ کھا کر اس کے نکاح میں دے دیا، ماں مفارقت چاہتی ہے اور خاوند ضد پر کمر بستہ)
جواب: فی الدار المختار وان کان المزوج غیرھما ای غیر الاب وابیه ولو الام والقاضی (الی قوله) لایصح النکاح من غیر کف او بغبن فاحش اصلا وان کان من کفء وبمھر المثل صح لکن لھما خیار الفسخ (الی قولہ) بشرط القضاء للفسخ، وفیه ایضا فی باب الکفاءۃ وتعتبر فی العرب والعجم دیانة اى توقى فليس فاسق كفر الصالحة او فاسقة بنت صالح معلنا كان او لا على الظاهر نهر۔
روایتِ اولیٰ سے معلوم ہوا کہ اگر ماں غیر کفو سے نکاح کر دے نکاح منعقد نہیں ہوتا اور روایتِ ثانیہ سے معلوم ہوا کہ شیعی بوجہ فسق اور اعتقادی کے کفو سنیہ کا نہیں لہٰذا یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔
(امداد الفتاویٰ: جلد 4، صفحہ 477)