سوال: ہندہ ایک عورت نامعلوم الاسم النسب ہے (جو تحقیق کرنے سے اس قدر پتہ چلتا ہے کہ ہندہ مفرورہ نامسلمان تھی) اول وہ ایک رافضی کے (بسبب خواہش نفسی) ساتھ فرار ہوئی اور کچھ عرصہ تک اس کے پاس رہی پھر دوسرے رافضی کے پاس اور مرد کو زندہ چھوڑ کر ساتھ رہی نکاح غالباً دونوں میں سے کسی سے ہوا ہو جس کا علم نہیں بعد مرنے دوسرے شخص کچھ دنوں آزاد بد چلن رہی اب ایک لڑکی ہے جس کو اپنے بطن سے بتلاتی ہے اور لڑکی کا نکاح رافضی مرد سے کر دیا ہے بلکہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ خود بھی اس رافضی داماد سے ناجائز تعلق رکھتی ہے بلکہ اس رافضی داماد کی خوشی کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے جس خاندانِ اہلِ سنت میں ہندہ نے نکاح کیا ہے اس کی عورت کو بھی اس سے ناجائز تعلق کرانا چاہتی ہے جو واقعات سے ظاہر ہو چکا ہے اور اگر اس کی داماد کی نگرانی کی جاتی ہے تو کہتی ہے کہ میں شوہر کے ساتھ نہیں داماد رافضی کے ساتھ رہوں گی اور اس کے لڑکے یعنی نواسہ کی پرورش کرتی ہے اور متنبیٰ جانتی ہے اب اہلِ سنت مرد سے نکاح کر لیا ہے مگر شوہر وہ اس کے رشتہ داروں سے رافضیوں کو ترجیح دیتی ہے۔
اب اس نکاح کی وجہ سے ہندہ اپنے کو اہلِ سنت کہتی ہے بلکہ اس تحقیقِ مذہب کے خیال سے اس نے ایک بزرگ اہلِ سنت سے بیعت کر کے دھوکہ میں ڈال دیا ہے مگر چونکہ اس کے شوہر کی رشتہ داری رافضیوں میں پہلے سے ہوتی رہی ہے اور بعض رشتہ دار اس کے شوہر کے مکائد اہلِ رفض سے خوب واقع ہیں جب اسے تحقیق نام و مذہب و نسب چاہتے ہیں تو وہ کہتی ہے اگر میں رافضی ہوں تو پیشاب پلاؤں گی اور نام و نسب وغیرہ نہیں بتلاتی بلکہ بعض وقت تحقیقِ حالات میں شوہر کے رشتہ دار اہلِ سنت کو کافر بھی کہتی ہے
ایسی عورت کو جو نام و نشان وغیرہ اپنے سابقہ حالات کچھ نہ بتلاتی ہو اور حالاتِ بالا موجود ہوں اس کو اہلِ سنت سمجھیں یا کیا اور اس سے مثل رافضیوں کے احتیاط کریں یا نہیں؟
جواب: جب ہندہ نے رافضی مردوں سے ناجائز تعلق رکھا اور اپنی بیٹی کو بھی رابطے سے بیاہا اور خود بھی داماد سے ناجائز تعلق رکھتی ہے اور اس صورت میں بظاہر ہندہ پر رافضی ہونے کا شبہ ہے اور بدکار و فاسق ہونے میں تو شبہ بھی نہیں اگر ہندہ کے شوہر کو یہ سب حالات معلوم ہے اور وہ پھر بھی اس پر تنبیہ نہیں کرتا نہ اس کو علیحدہ کرتا ہے تو وہ بھی فاسق اور دیوث ہے اہلِ سنت کو ایسے شخص کے گھر میں اپنی مستورات نہ بھیجنا چاہیے اور مستورات اہلِ سنت کو ہندہ سے اپنی طرح اعتراض کرنا چاہیے اور ہندہ کے شوہر کے پیچھے اس حالت میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔
(امداد الاحکام: جلد 1، صفحہ 498)