شیعہ کا دھوکہ دے کر نکاح کرنے کی صورت میں فسخ نکاح - فتاویٰ…

شیعہ کا دھوکہ دے کر نکاح کرنے کی صورت میں فسخ نکاح


سوال:میں مسماۃ سکینہ دختر فہیم الدین عرض پرواز ہوں کہ 1925 میں جبکہ میری عمر 11 سال تھی، ایک شخص ضمیر الحسن پسر ابو الحسن نے میرے والد کو دھوکہ دے کر اور یہ کہہ کر کہ میں اہل سنت و الجماعت ہو گیا ہوں، میرے ساتھ نکاح کر لیا اور نکاح کے بعد اس نے اپنا وہی طریقہ رکھا اور مجھ کو شیعہ بننے پر مجبور کیا اور سخت تکلیفیں پہنچائیں۔ میں اس کے مذہب سے سخت بیزار ہوں اور کسی اہل سنت و الجماعت والے شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہوں، میری عمر 18 سال ہے میرے ماں باپ بالکل نادار ہیں۔ 

جواب:اگر خاوند نے عورت کے باپ کو یہ بتایا کہ میں اہل سنت و الجماعت ہو گیا ہوں اور اسی بنا پر باپ نے نکاح کردیا تھا، نکاح کے بعد معلوم ہوا کہ وہ سنی نہیں ہوا بلکہ ابھی تک شیعہ ہے تو لڑکی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت کے ذریعہ سے اپنا نکاح فسخ کرا لے اور اگر غالی شیعہ تبرائی ہو تو نکاح ہی درست نہیں ہوا بذریعہ عدالت فیصلہ کرا کے عورت دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔

وضاحت: عدالت سے یہ فیصلہ کروانا قانونی طور پر اجازت حاصل کرنے کے لیے ہے، ورنہ شرعاً اس کو اجازت ہے۔

(کفایت المفتی: جلد 8 صفحہ 445)