فسخ نکاح کے بیس (20) سال بعد شیعہ شوہر کا اپنے آپ کو سنی…

فسخ نکاح کے بیس (20) سال بعد شیعہ شوہر کا اپنے آپ کو سنی بتا کر بقائے نکاح کا دعویٰ کرنا


سوال: ایک بالغہ کنواری لڑکی اہل سنت کو ایک شیعہ نے ورغلا کر اغوا کر لیا اور دوسری کسی گمنام جگہ لے جا کر نکاح کیا۔ تین چار مہینوں کے بعد لڑکی کے وارث ممکن ذرائع سے لڑکی کو واپس لائے، شریعت کی طرف رجوع کرنے پر پیر مہر علی شاہ مرحوم وغیرہ جیسی ہستیوں اور دو تین علماء کرام نے متفقہ حکم دیا کہ اہل سنت اور شیعہ کا نکاح جائز نہیں۔ اس واقعے کو تقریباً 20 سال کا عرصہ ہو گیا جبکہ اس عورت کا نکاح دوسرے اہل سنت کے ساتھ پڑھا دیا گیا اب اس وقت اس عورت سے اہل سنت مسلمان کے(جس کے ساتھ سنت طریقے پر روبرو گواہان کے نکاح خواں نے ہر طرح تسلی اور حلف ازروئے قرآن مجید کے نکاح پڑھا تھا) پانچ بچے ہیں سب سے بڑی لڑکی بھی بالغہ ہو گئی ہے۔ اب پہلا شخص بطور ضد اور شرارت کے علانیہ کہتا ہے کہ اہل سنت و الجماعت ہوں اور اس وقت بھی اہل سنت و الجماعت تھا تو اب اتنے عرصے کے بعد اس کی حمایت کرنے والے دیگر علماء لا کر فیصلہ کراتے ہیں کہ یہ دوسرا نکاح ناجائز ہے۔ اب چونکہ جن علمائے کرام نے اس وقت حکم جدید یعنی نکاح ثانی حکم کا دیا تھا وہ انتقال کر چکے ہیں اور بچوں کا باپ سخت نالہ اور پریشان ہے، اس کے یہ الفاظ ہیں کہ یہ کیسی شریعت ہے اور اسلام کا کیا حکم ہے کہ جب ایک دفعہ وہی شریعت حکم دیتی ہے اور شیعہ کے ساتھ نکاح ناجائز قرار دے کر بعد تحقیقات کے مجھے نکاح کا حکم ملتا ہے اب جب کہ میں پانچ بچوں کا باپ ہوں تو پھر وہی شریعت میرا نکاح ناجائز بتاتی ہے اس لیے مجبور ہو کر آپ جناب کی طرف رجوع کیا جاتا ہے کہ فتنہ ارتداد کا ڈر ہے۔

جواب نمبر 1: شیعہ مذہب تبرائی والے کا سکوت دعوے (خاموشی) سے اس قدر طویل زمانہ تک پہلی اولاً دوسرے شوہر کی بالغہ بھی ہو گئی ہے دلیل و سند ہے اس بات کی کہ یہ شخص شیعہ ہی ہے۔ اگر اہل سنت و الجماعت ہوتا تو دوسرے نکاح کی خبر سنتے ہی دعویٰ کرتا اپنے نکاح کے منعقد ہونے کا اور دوسرے نکاح کے باطل ہو جانے کا لیکن جب اس نے دعویٰ نہیں کیا تو یہ سکوت خاموشی اور دعویٰ نہ کرنا اقرار ہے اس کی طرف سے شیعہ ہونے کا۔ لہذا اس کا دعویٰ اہل سنت و الجماعت ہونے کا غیر معتمد ہے بوجہ تناقض کے اور اس کا دعویٰ قابل سماعت نہیں اور اس عورت کا دوسرا نکاح صحیح ہے اور اس کی اولاد شوہر ثانی(سنی) حلال کی ہے۔

جواب نمبر 2:جس وقت شریعت کا فیصلہ ہوا تھا وہ ثالثوں نے اس کو شیعہ قرار دے کر عدمِ جواز نکاح کا حکم دیا تھا اسی وقت اس کو لازم تھا کہ اپنا سنی ہونا ثابت کرتا اور شیعت سے تبری کرتا مگر اس وقت وہ خاموش رہا اور اس کی بیوی کا دوسرا نکاح ہوا اور ایک زمانہ گزر گیا مگر یہ نہ بولا تو اب اس کا اپنے آپ کو سنی بتانا سابقہ نکاح کے باقی رہنے کا دعویٰ کرنا نہ قابل قبول ہے۔

(کفایت المفتی: جلد 7 صفحہ 138)