لا علمی میں رافضی سے نکاح ہو جائے تو کیا حکم ہے - فتاویٰ…

لا علمی میں رافضی سے نکاح ہو جائے تو کیا حکم ہے


سوال: زہد نے اپنی لڑکی ہندہ کا بکر کے لڑکے کے ساتھ عقد کر دیا، چار سال کے بعد معلوم ہوا بکر رافضی قوم سے ہے۔ اب زید اپنی لڑکی کو نہیں بھیجتا کہتا ہے کہ لاعلمی میں نکاح کر دیا گیا اب نہیں بھیجوں گا۔ اب آیا ہندہ جو مذہب حنفی رکھتی ہے اس کا نکاح رافضی کے ساتھ درست ہے یا نہیں؟

جواب: اگر لڑکے نے یا اس کے اولیاء نے اپنے آپ کو سنی ظاہر کیا تھا اور حقیقت میں شیعہ تھے تو زید اور اس کی لڑکی کو حق ہے کہ اس کے دھوکے دینے کی بناء پر اپنی لڑکی کے نکاح کو فسخ کرا لے اور اگر دھوکا دینے کی نوبت نہیں آتی تو اگر خاوند ایسے شیعوں میں سے ہے جو موجودہ قرآن مجید کو نہیں مانتے یا اس میں تحریف یا کمی زیادتی کے قائل ہیں، عائشہؓ صدیقہ پر تہمت کے قائل ہوں یا حضرت علیؓ کو خدا مانتے ہیں یا اسی قسم کے اور عقیدے کے قائل ہیں تو نکاح بھی صحیح نہیں ہوا اور اگر وہ تبرائی غالی شیعوں میں سے ہیں تو بوجہ فسق اور عدمِ امکان موافقت کے وہ نکاح کو فسخ کرا سکتی ہے۔

(کفایت المفتی: جلد 7 صفحہ 136)