سوال:ایک عورت بالغہ ہے اس کی ماں نے اس عورت کا نکاح باوجود باپ کے ہوتے ہوئے بلا اس کا ذکر کیے ہوئے کہ خاوند کس مذہب کا ہے قاضی سے پڑھوا دیا۔ اس کا نکاح ہو جانے کے بعد معلوم ہوا کہ خاوند شیعہ مذہب کا ہے اور سب شیخینؓ کرتا ہے اور عورت نے انکار کر دیا ہے اور کسی طرح بھی رضا مند نہیں ہے اور باپ بھی عورت منکوحہ کے ساتھ ہے۔ موجودہ صورت میں نکاح قائم رہے گا یا فسخ ہو گا؟
جواب: ماں کو بالغہ لڑکی کا نکاح کر دینے میں کوئی حق نہیں تھا اور اگر بالغہ لڑکی کو اس کے ہونے والے خاوند کے مذہب سے ناواقف رکھا گیا اور اس سے اذن حاصل کر لیا گیا تھا تو یہ نکاح بھی لڑکی کے انکار کر دینے پر واجب الفسخ ہے، بذریعہ عدالت سے فسخ کرا لینا چاہیے۔
(کفایت المفتی: جلد 7 صفحہ 134)