سوال: ہندہ نابالغہ کا نکاح اس کے باپ نے ایک شخص سے کیا جو شیعہ تھا اس نے یہ ظاہر کیا میں سنی ہو گیا ہوں۔ اس کے اس کہنے پر کہ میں سنی ہو گیا ہوں، ہندہ کے والد نے نکاح کر دیا لیکن ہندہ ابھی رخصت بھی نہ ہو پائی تھی کہ معلوم ہوا وہ شخص سنی نہیں ہوا بلکہ شیعہ ہی ہے اور سخت قسم کا شیعہ ہے۔ اب جب کہ لڑکی بالغ ہوئی اور اس نے اپنے شوہر کے یہاں جانے سے اس بنا پر انکار کیا کہ وہ شیعہ ہے اور اختلاف مذہب رکھتا ہے۔ پس ایسی حالت میں جب کہ یہ لوگ قرآن مجید کے پندرہ پاروں کو مانتے ہیں اور پندرہ پاروں کو نہیں مانتے اور شیعہ بھی سخت قسم کے ہیں۔ ہندہ نابالغہ کا نکاح شیعہ کے ساتھ ہوا یا نہیں؟ اگر ہو گیا تو اب چھٹکارے کی کیا صورت ہے؟
جواب:اگر یہ صحیح ہے کہ وہ شخص قرآن مجید کے پندرہ پاروں کو کلام الٰہی نہیں مانتا تو ایسے شخص کے ساتھ سنی لڑکی کا نکاح درست ہی نہیں ہوا، اس لیے کہ وہ ضروریات دین کا منکر ہوا اور اس کو حق ہے کہ وہ بغیر طلاق حاصل کیے دوسرا نکاح کر لے۔ ہاں قانونی مواخذہ سے محفوظ رہنے کے لیے حاکم سے اجازت حاصل کر لینا لازم ہے اور اگر وہ اس بات سے انکار کرے یعنی یہ کہے کہ میں سارا قرآن کلام الٰہی سمجھتا ہوں تب بھی لڑکی کو حق ہے کہ وہ اختلاف مذہب اور دھوکہ دہی کی وجہ سے اپنا نکاح فسخ کرا لے، کیونکہ سنی عورت اور غالی شیعہ کے درمیان نباہ نہیں ہو سکتا۔
(کفایت المفتی: جلد 7 صفحہ 132)