مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمۃاللہ کا…

مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمۃاللہ کا فتویٰ شیعہ کے ساتھ مناکحت کا حکم


سوال 1: نذیر احمد قوم نداف ساکن نجیب آباد و معہ متعلقین جو عرصہ تقریباً ڈیڑھ سال سے اپنا مذہب ترک کر کے رافضی شیعہ ہو گیا ہے اور اب تمام کام وہی کرتا ہے جو رافضی کرتے ہیں اور خلفائے راشدینؓ کی شان میں گستاخی کر رہا ہے۔ شیعہ مرتد ہے یا مسلمان؟ 

2: نذیر احمد مذکور کے ساتھ مسلمانوں کو کیا برتاؤ کرنا چاہیے؟

3: ہم لوگوں کی برادری کی پنچایت ہے شرعاً ہمیں نذیر احمد سے تعلقات ترک کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ 

4: اگر برادری کی پنچایت نذیر احمد کو برادری سے خارج نہ کرے تو تمام برادری گنہگار ہو گی یا نہیں؟

5: نذیر احمد مزکور سے اور اس کے متعلقین سے جو رافضی ہو چکے ہیں سلسلہ مناکحت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب نمبر 1: اگر فی الواقع نذیر نے شیعہ مذہب اختیار کر لیا ہے اور ابوبکرؓ و عمرؓ کو گالی دیتا ہے تو وہ مرتد ہے۔ فتاویٰ عالمگیری باب المرتد میں ہے (الرافضی اذا کان یسب الشیخینؓ ویلعنھما العیاذ بالله فهو كافر

جواب نمبر 2: اول نذیر احمد کو نرمی سے سمجھایا جائے اور اس باطل مذہب سے اس کو ہٹانے کی کوشش حسن تدبیر کے ساتھ کی جائے۔ اگر وہ کسی صورت میں باز نہ آوے تو اس سے برادرانہ تعلقات منقطع کر دئیے جائیں۔ 

جواب نمبر 3,4: اگر سمجھانے اور کوشش کرنے کے باوجود نذیر احمد راہ راست پر نہ آوے تو اس سے قطع تعلق ضروری ہے۔ اگر برادری اس سے تعلقات ختم نہ کرے گی تو گنہگار ہو گی۔ 

جواب نمبر 5: ان لوگوں سے سلسلہ مناکحت کرنا اہل سنت و الجماعت کو ناجائز اور حرام ہے کیونکہ مسلمان اور کافر باہم نکاح صحیح اور منعقد نہیں ہوتا۔ اگر نذیر احمد غالی شیعہ ہو گیا ہے یعنی افک عائشہؓ کا قائل ہے یا قرآن مجید کو صحیح اور کامل نہیں سمجھتا یا حضرت صدیق اکبرؓ کی صحابیت کا منکر ہے یا حضرت علیؓ کو وحی کا اصل مستحق سمجھتا ہے یا حضرت علیؓ کی الوہیت کا قائل ہے تو بے شک وہ کافر ہے اور اس صورت میں باقی سب جواب صحیح ہیں۔ 

(کفایت المفتی: جلد 1 صفحہ 444)