سنیہ کا نکاح رافضی سے - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

سنیہ کا نکاح رافضی سے


سوال: زید سنی المذہب ہے۔ اپنی لڑکی کو اغراض دینوی شیعہ ہونے کی ترغیب باجازت دیوے اور خود بھی شریک مجلس شیعان ہو کر مرتکب امیر غیر شرع کا ہووے اور اپنی دختر کا عقد شیعہ مذہب میں ہی کرنے پر راضی ہو یا کر دیوے اور لڑکا اس کا رافضی ہو جاوے تو اس کے اور اس کے لڑکے کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے؟ اور نیز اس لڑکی کا نکاح شیعہ مذہب سے جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب:زید کا مرتکب امور محرمہ کا ہونا اس صورت میں ظاہر ہے اور زید بوجہ ارتکاب امور مذکورہ سخت عاصی اور فاسق ہے، اس کے بیٹے کا رافضی ہو جانے کا وبال اس لڑکے پر ہے اور باپ اس کے رافضی ہونے پر راضی تھا تو وہ بھی عاصی ہوا اور لڑکی سنیہ کا نکاح رافضی تبرائی سے کرنا حرام اور ناجائز ہے۔ پھر اگر وہ رافضی تبرائی ایسا ہے کہ امور کفریہ اجماعیہ کا معتقد ہے۔ جیسے افکِ عائشہ صدیقہؓ تو وہ مرتد ہے۔ اس سے سنیہ مسلمہ کا نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔

(عزیز الفتاویٰ المبوب مکمل: جلد 1 صفحہ 402)