سوال: ایک شخص نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک مرد شیعی کے ساتھ جس کے عقائد باطل ہیں یعنی افکِ عائشہ صدیقہؓ کا قائل یے اور سبِّ شیخینؓ کرتا ہے الی غیر ذالک۔ اس لڑکی کے باپ نے یہ خیال کر کے یہ مرد شیعی مسلمان نہیں ہے اس وجہ سے نکاح نہیں ہوا اپنی لڑکی کا نکاح دوسرے شخص سنی سے کر دیا نکاح ثانی صحیح ہے یا نکاح اول باقی ہے؟
جواب:روافض جو سبِّ شیخین کرتے ہیں ان کے کفر میں اختلاف ہے۔ بعض فقہاء نے ان کی تکفیر کی ہے اور محقیقین علماء عدم تکفیر کے قائل ہیں لیکن جو روافض افک عائشہ صدیقہؓ کے قائل ہیں وہ باتفاق کافر ہیں۔ اسی طرح بعض دیگر عقائد روافض غالیہ کے مثلاً یہ کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے وحی کے پہچانے میں غلطی کی یا حضرت علیؓ خدا تھے وغیرہ وغیرہ یہ اعتقاد باتفاق اہل سنت کفر ہے۔
پس صورت مسئولہ میں نکاح اول جو شیعی غالی سے ہوا ہے صحیح نہیں ہوا بلکہ باطل ہوا اور دوسرا نکاح صحیح ہے۔
(عزیز الفتاویٰ المبوب مکمل: جلد 1 صفحہ 400)