معوذتین کی عظمت و فضیلت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

معوذتین کی عظمت و فضیلت

  ابو عدنان محمد منیر قمر

صفحہ 2 از 3

تاہم اس کا علاج معجم طبرانی کبیر میں آیا ہے۔چنانچہ حضرت زید بن ارقمؓ  سے روایت ہے:
’’ایک یہودی رسول اللہﷺ  کے پاس آتا جاتا تھا جس پر آپﷺ کو بہت اعتماد تھا۔اس نے آپﷺ  کے لیے(دھاگوں میں)گرہیں لگائیں(یعنی جادو کیا)اور اسے ایک انصاری کے کنوئیں میں ڈال دیا۔اس جادو کے اثر سے آپﷺ کو تکلیف رہنے لگی۔(حضرت عائشہؓ کی روایت میں چھ ماہ کی مدت کا ذکر ہے)آپﷺ  کے پاس عیادت کے لیے دو فرشتے(آدمی کی شکل میں)حاضر ہوئے۔ان میں سے ایک آپﷺ  کے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا آپﷺ  کے پاؤں کے پاس۔ایک فرشتے نے دوسرے سے پوچھا:’’کیا تمھیں معلوم ہے کہ آپ کو کیا تکلیف ہے؟‘‘ دوسرے نے جواب دیا:’’فلاں شخص جو آپﷺ کے  پاس آتا جاتا تھا،اس نے آپﷺ  پر گرہیں باندھ کر جادو کیا ہے اور فلاں انصاری کے کنوئیں میں وہ(اشیاء)ڈالی ہیں۔اگر آپﷺ  کسی آدمی کو بھیجیں جو گرہ شدہ دھاگے وہاں سے نکالے تو(جادو کے اثر سے)وہ اس کنوئیں کا پانی زرد پائے گا۔‘‘(اس کے بعد)حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور آپﷺ کو معوذتین پڑھنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی نے آپﷺ پر جادو کیا ہے جو فلاں کنوئیں میں ہے۔آپﷺ  نے ایک آدمی بھیجا۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ کو بھیجا،حضرت علیؓ  نے دیکھا کہ کنوئیں کا پانی زرد ہوچکا ہے،حضرت علیؓ گرہ شدہ دھاگے لے کر آئے۔حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپﷺ کو گرہ کھولنے اور معوذتین کی آیات پڑھنے کی ہدایت کی۔آپﷺ  آیات پڑھتے جاتے اور گرہ کھولتے جاتے حتیٰ کہ ساری گرہیں کھل گئیں تو آپﷺ بالکل شفایاب ہوگئے۔دوسری روایت میں ہے:

(( فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ کَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ )) 

’’گویا آپﷺ اسی سے باندھے گئے تھے اور معوذتین پڑھنے کے بعد)آزاد ہوگئے ہیں۔‘‘

اس واقعہ کے بعد وہ شخص(جادو کرنے والا)آپﷺ  پاس آتا جاتا رہا لیکن آپﷺ  نے اس سے کبھی اس بات کا ذکر کیا نہ اس کی موت تک اس سے بدلہ لیا۔‘‘

(سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ،برقم:۲۷۶۱)

معوذتین کو یہ مقام بھی حاصل ہے کہ مرض الموت میں انھیں پڑھ کر دم کرنے سے جان کنی کی تکلیف آسان ہوگی۔ان شاء اللہ۔چنانچہ صحیح بخاری،سنن ابو داود،نسائی،ابن ماجہ اور موطأ مالک میں حضرت عائشہؓ  سے روایت ہے:
’’رسولِ اکرمﷺ  جب بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے۔جب(مرض الموت میں)آپﷺ  کی بیماری شدت اختیار کرگئی تو میں معوذات پڑھ کر آپﷺ پر پھونکتی اور برکت کی خاطر آپﷺ  کا دستِ مبارک آپﷺ کے جسم اطہر پر پھیرتی۔‘‘

(صحیح البخاری:5016) 

معوذتین کو ایک حدیث میں بے نظیر و بے مثال قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ صحیح مسلم،سنن ترمذی،نسائی اور مسند احمد میں حضرت عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا:

(( أَلَمْ تَرَ آیَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّیْلَۃَ لَمْ یُرَ مِثْلُہُنَّ قَطُّ؟قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ} )) (صحیح مسلم:1348) 

’’تم نے غور کیا آج کی رات مجھ پر ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان سے پہلے کبھی ایسی آیات نہیں دیکھی گئیں،اور وہ ہیں:

{قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}

اور

{قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ} ۔‘‘

یہ بھی معوذتین کی اہمیت وفضیلت اور عظمت ہی ہے کہ سوتے وقت نبیﷺ  سورۃ الاخلاص اور ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک مارتے اور انھیں اپنے جسمِ اطہر پر پھیرا کرتے تھے جیسا کہ’’عظمتِ سورۃ الاخلاص‘‘ کے ضمن میں وہ حدیث ذکر کی جاچکی ہے۔

 معوذات(سورۃ الاخلاص،سورۃ الفلق اور سورۃ الناس)کی عظمت و فضیلت

سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو’’معوذتین‘‘ کہا جاتا ہے لیکن جب سورۃ الاخلاص بھی ان میں شامل ہوجائے تو ان تینوں کے مجموعے کو’’معوذات‘‘ کہا جائے گا۔
ان معوذات کی عظمت ومقام کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ نبیﷺ  نے بتایا ہے کہ تورات،زبور،انجیل حتیٰ کہ قرآن مجید میں بھی سورت اخلاص،سورۃ الفلق اور سورۃ الناس جیسے فضائل کی کوئی دوسری سورت نہیں۔چنانچہ حضرت عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ  سے ملا تو آپﷺ  نے فرمایا:

(( یَا عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ! أَلَا أُعَلِّمُکَ سُوَراً مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاۃِ وَلَا فِي الزُّبُوْرِ وَ لَا فِي الْاِنْجِیْلِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُہُنَّ لَا یَأْتِیَنَّ لَیْلَۃٌ اِلَّا قَرَأْتَہُنَّ فِیْہَا {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} و {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ} )) 
(سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ:2861

’’اے عقبہ! کیا میں تجھے ایسی سورتیں نہ سکھاؤں کہ اُن جیسی سور تیں تورات میں نازل ہوئیں،نہ زبور میں،نہ انجیل میں اور نہ قرآن میں۔سن! تجھ پر کوئی ایسی رات ہرگز نہ گزرنے پائے جس میں تو یہ سورتیں نہ پڑھے:

{قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} 
{قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}

اور

{قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ} ۔‘‘

ان معوذات کی عظمت کی خاطر ہی نبی مکرمﷺ  نے بتایا ہے کہ انھیں صبح و شام تین تین مرتبہ پڑھنا تمام بیماریوں،پریشانیوں اور تکلیفوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے کافی ہے۔چنانچہ سنن ابو داود میں حضرت خبیبؓ کہتے ہیں کہ شدید بارش اور سخت تاریکی کی رات میں ہم رسول اللہﷺ  کو تلاش کرنے کے لیے نکلے تاکہ آپﷺ  ہمیں نماز پڑھائیں۔ہم نے آپﷺ کو تلاش کرلیا۔آپﷺ  نے دریافت فرمایا:

أَصَلَّیْتُمْ؟ 

’’کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟‘‘
میں نے کوئی جواب نہ دیا،تب آپﷺ  نے فرمایا:

(قُلْ 

’’کہہ‘‘ میں نے جواب میں کچھ نہ کہا،آپﷺ نے پھر فرمایا:

قُلْ 

’’کہہ‘‘ میں نے پھر بھی کچھ نہ کہا،پھر آپﷺ نے تیسری مرتبہ ارشاد فرمایا:

 قُلْ 

’’کہہ‘‘ میں نے عرض کیا:یا رسول اللہﷺ! کیا کہوں ؟
آپﷺ  نے ارشاد فرمایا:

(( قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ وَ الْمُعَوِّذَتَیْنِ حِیْنَ تُمْسِيْ وَحِینَ تُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَکْفِیْکَ مِنْ کُلِّ شَيئٍ ))
(سنن أبي داود،ابواب النوم:3/ 4241) 

’’شام اور صبح کے وقت تین تین مرتبہ سورۃ الاخلاص اور معوذتین پڑھو،یہ تمھیں ہر مصیبت سے بچنے کے لیے کافی ہوں گی۔‘‘

صفحہ 2 از 3