معوذتین کی عظمت و فضیلت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

معوذتین کی عظمت و فضیلت

  ابو عدنان محمد منیر قمر

صفحہ 1 از 3

معوذتین کی عظمت و فضیلت

سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے مجموعے کو معوذتین کہا جاتا ہے۔ان کی عظمت کا اندازہ مندرجہ ذیل احادیث سے بہ خوبی ہو جاتا ہے
اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کے لیے ان سے بہتر کوئی سورت نہیں۔ یہ آفاتِ سماویہ مثلاً شدید طوفان، زلزلہ، سیلاب، قحط سالی، آندھی اور ژالہ باری وغیرہ سے بھی اللہ کی پناہ مہیا کرتی ہیں۔چنانچہ حضرت عقبہ بن نافعؓ  کہتے ہیں کہ جحفہ(جگہ کا نام)اور ابواء(جگہ کا نام)کے درمیان ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ جارہے تھے کہ اچانک ہمیں آندھی اور شدید تاریکی نے آلیا۔رسولِ اکرمﷺ  نے معوذتین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی شروع کردی اور فرمایا:

(( یَا عُقْبَۃَ بنْ عَامِرٍ! تَعَوَّذْ بِہِمَا،فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِہِمَا )) 
(صحیح سنن أبي داود:۱۳۱۶،صحیح الجامع:7949) 

’’اے عقبہ بن عامرؓ! ان دونوں سورتوں کے ذریعے اللہ کی پناہ مانگو،کسی پناہ مانگنے والے کے لیے ان سے بہتر کوئی سورت نہیں۔‘‘
اسی طرح سنن نسائی میں حضرت ابن عابس جہمیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ  نے ان سے فرمایا:

(( اَلَا أَخْبِرُکَ بِأَفْضَلِ مَا یَتَعَوَّذُ بِہٖ الْمُتَعَوِذُوْنَ؟ )) قَالَ:بَلـٰی یَا رَسُوْلَ ! قَالَ: (( {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ} ہَاتَیْنِ السُّوْرَتَیْنِ ))
(سنن النسائي:3/ 5020) 

’’کیا میں تمھیں پناہ مانگنے والوں کی بہترین دعا نہ بتاؤں ؟ صحابی نے عرض کیا:کیوں نہیں یا رسول اللہﷺ ! آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ}

یہ دونوں سورتیں پناہ مانگنے والوں کے لیے ہیں۔‘‘

ایک حدیث سے پتا چلتا ہے کہ رسولِ اکرمﷺ  نے سونے سے پہلے اور جاگنے کے بعد معوذتین پڑھنے کی تلقین فرمائی۔چنانچہ سنن ابو داود اور مسند احمد میں حضرت عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا:

(( اَلَا أُعَلِّمُکَ سُوْرَتَیْنِ مِنْ خَیْرِ سُوْرَتَیْنِ؟ )) قَرَأَ بِہِمَا النَّاسُ فَأَقْرَأَنِيْ: {قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوْذُ بِرَ بِّ النَّاسِ} فَأُقِیْمَتِ الصَّلَوٰۃُ فَتَقَدَّمَ فَقَرَأَ بِہِمَا ثُمَّ مَرَّ بِيْ فَقَالَ: (( کَیْفَ رَأَیْتَ یَا عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ؟ اِقْرَأْ بِہِمَا کُلَّمَا نِمْتَ وَ قُمْتَ )) 
(سنن النسائي:5434) 

’’کیا میں تجھے دو ایسی سورتیں نہ سکھاؤں جو ان سب سورتوں سے بہتر ہیں جنھیں لوگ پڑھتے ہیں ؟ پھر آپﷺ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے

{قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}

اور

{قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ}

پڑھائی۔اتنے میں نماز کھڑی ہوگئی۔آپﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی جس میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں۔پھر آپﷺ میرے پاس سے گزرے تو فرمایا:اے عقبہ! ان سورتوں کی اہمیت سمجھ پائے ہو(یا نہیں)؟ پھر آپﷺ  نے فرمایا:جب بھی سونے لگو تو یہ دونوں سورتیں پڑھو اور جب جاگو تو بھی یہ دونوں سورتیں پڑھو۔
ایک حدیث میں رسول اکرمﷺ  نے ہر نماز کے بعد معوذتین پڑھنے کا حکم دیا ہے۔چنانچہ سنن ابو داود،نسائی،بیہقی اور مسند احمد میں حضرت عقبہ بن عامرؓ  فرماتے ہیں:
’’مجھے رسول اللہﷺ نے ہر نماز کے بعد معوذات

(الاخلاص و المعوذتین)پڑھنے کا حکم دیا۔‘(سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ:2761)

بعض ارشاداتِ نبویہ سے پتا چلتا ہے کہ انسانوں کی نظرِ بد اور جن و شیاطین کے اثرات مثلاً جادو،سایہ،جنون،وساوس،حسد اور شیطانی خیالات وغیرہ سے بچنے کے لیے معوذتین سے بڑھ کر مؤثرکوئی دعا نہیں۔چنانچہ سنن ترمذی،نسائی،ابن ماجہ اور الاحادیث المختارہ للضیاء المقدسی میں حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں:

(( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَتَعَوَّذُ مِنَ الْجَانِّ وَ عَیْنِ الْاِنْسَانِ حَتّٰی نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ فَلَمَّا نَزَلَتَا أَخَذَ بِہِمَا وَتَرَکَ سِوَاہُمَا )) 

’’رسول اللہﷺ جنوں اور انسانوں کی نظر(بد)سے بچنے کے لیے(اللہ تعالیٰ کی)پناہ طلب فرمایا کرتے تھے لیکن جب معوذتین نازل ہوگئیں تو آپﷺ  نے باقی تمام دعائیں ترک کردیں اور معوذتین کو اپنا لیا۔‘‘

(سنن الترمذي،أبواب الطب:2/ 1681، صحیح الجامع:4902) 

معوذتین کی عظمت و فضیلت کا بہترین ثبوت وہ احادیث ہیں جن میں آیا ہے کہ معوذتین جادو کا اثر زائل کرنے کے لیے سب سے بہتر اور مؤثر دم ہے۔رسولِ اکرمﷺ  پر جادو کیا گیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپﷺ کو معوذتین پڑھنے کی ہدایت کی۔جسے پڑھنے کے بعد رسولِ اکرمﷺ  مکمل طور پر جادو کے اثر سے آزاد ہوگئے۔
نبی مکرمﷺ پر جادو کیے جانے کا ثبوت تو خود صحیح بخاری وغیرہ میں بھی موجود ہے۔

(بخاری مع الفتح:10/ 243)
صفحہ 1 از 3