سوال: ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دی، بعد اس کے ایسی صورت کا متلاشی ہوا کہ اپنے نکاح میں وہ بلا حلالہ آ سکے، مفتیوں نے اس کو انکاری جواب دیا۔ شیعوں نے اس کو بہکایا کہ ہمارے مذہب میں بلا حلالہ نکاح میں آسکتی ہے، شیعہ ہو جاؤ۔ چنانچہ دونوں شیعہ ہو گئے اور اس عورت مطلقہ کو اپنے نکاح میں لے آیا۔ اس شخص کی والدہ نے اس سے گفتگو اور ملنا چھوڑ دیا۔ اب وہ شخص اس امر کا خواستگار ہے کہ میں سنی ہو جاؤں بشرطیکہ یہ عورت نکاح میں باقی رہے۔ اب یہ امر دریافت طلب ہے کہ جبکہ اکثر علماء کے نزدیک شیعہ کافر ہیں تو اب سنی ہو جانے کی صورت بلا حلالہ نکاح میں آسکتی ہے؟ اور الاسلام يهدم ما كان قبلہ کا اثر ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جواب: قال في الشامى اى لو طلقها ثنتين وهى امہ ثم ملكها اوثلاثا وهى حرة فارتدت ولحقت بدار الحرب ثم سبيت و ملكها لا يحل لہ وطنها بملك اليمين حتى يزوجها فيدخل بها الزوج ثم يطلقها، الخ.
پس اگر تسلیم کرلیا جاوے کہ رافضی ہونا ارتداد ہے تب بھی بعد سنی ہونے کے حلالہ کی ضرورت ہے، بدوں حلالہ کے مطلقہ ثلاثہ اپنے شوہر اول کے لیے حلال نہ ہو گئی۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مدلل و مکمل: جلد 7 صفحہ 417)