سنی عورت، شیعہ سے بیاہی گئی، اب کیا کرے - فتاویٰ جات | دفاع…

سنی عورت، شیعہ سے بیاہی گئی، اب کیا کرے


سوال: ایک عورت سنی مذہب ایک مرد شیعہ سے بیاہی گئی ہے، اس کے جبر و اکراہ و تبدیل مذ ہب و اطوار وغیرہ سے نہایت تنگ ہے، علیحدگی کی خواستگار ہے، طلاق نہیں دیتا۔ ایسی صورت میں عورت مذکورہ کا نکاح دوسرے مرد سنی سے ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب: فرقہ شیعہ کی تکفیر و عدم تکفیر میں اختلاف ہے والاصح عدم التكفير اور بعض فقہاء ان کا حکم اہل کتاب کا سا فرماتے ہیں۔ پس بناء علیہ صورت مسئولہ میں اس سنیہ مسلمہ عورت کا نکاح شیعہ مرد سے نہیں ہوا ہے۔ عورت مذکورہ شوہر کے طلاق کے بغیر اپنا عقد ثانی کر سکتی ہے اور سنی کو اپنی بیٹی شیعہ کو دینا درست نہیں ہے۔

(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مدلل و مكمل: جلد 7 صفحہ 386)