شیعہ سے نکاح کرنے میں احتیاط ضروری ہے - فتاویٰ جات | دفاع…

شیعہ سے نکاح کرنے میں احتیاط ضروری ہے


سوال: زید اہل سنت و الجماعت کا مذہب رکھتا ہے اور اس کا پھوپھی زاد بھائی غیر مغلظہ شیعہ خاندان ہے، لیکن معلوم ہے کہ وہ روافض(شیعوں) کے مذہب کا پابند نہیں ہے اور اس کی والدہ زید کی پھوپھی اہل سنت سے ہے اور بکر کی بیوی بھی اہل سنت خاندان کی لڑکی ہے اور بکر کہتا ہے کہ ہم رافضی نہیں ہے، ہمارے نزدیک تمام صحابہ کرامؓ برابر ہیں، ہم کسی کی برائی نہیں کرتے، تمام صحابہؓ پر تبراء ناجائز ہے اور نماز جمعہ باجماعت پڑھتے ہیں اور باجماعت نمازیں ادا کرتے ہیں۔ پس بکر اپنے لڑکے کے لیے زید کی دختر کا خواستگار ہے۔ آیا ان کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟ علاوہ ازیں ایک تقریر مستفتی نے لکھی تھی جس کا حاصل یہ ہے کہ ثواب و عقاب کا دار و مدار عمل پر ہے خواہ عقیدہ کچھ بھی ہو؟

جواب: اگر بکر شیعہ غالی تبرائی نہیں ہے تو اس لڑکے سے جبکہ وہ بھی ایسا ہی ہو زید کی دختر کا نکاح صحیح ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ جب تک بکر پورا اہل سنت و الجماعت نہ ہو اُس وقت تک نکاح نہ کیا جائے اور ایک تردّد اس جگہ دوسرا ہے وہ یہ ہے کہ روافض میں تقیہ ضروری سمجھا جاتا ہے تو یہ کیونکر اطمینان ہو کہ جو کچھ وہ زبان سے کہتے ہیں ان کا یہ کہنا از راہ تقیہ تو نہیں ہے اور واضح ہو کہ عقائد کی خرابی بہت بڑی اور مضر ہے اور آنحضرتﷺ نے مسلمانوں کو 73 فرقہ بتلا کر یہ ارشاد فرمایا: كلهم فی النار الا واحدة، الخ کہ وہ سب دوزخی ہیں سوائے ایک فرقہ کے کہ وہ اہل سنت و الجماعت ہے اور اس فرقہ اہل سنت و الجماعت کی تعریف آنحضرتﷺ نے یہ فرمائی ہے: 

ما انا علیہ واصحابی 

کہ وہ اس طریقہ پر ہوں گے جس پر میں اور میرے اصحابؓ ہیں۔ پس جو فرقہ اہل سنت و الجماعت سے خارج ہے وہ ناری ہے اور اہل اہواء اور اہل باطل میں سے ہے۔ پس آنحضرتﷺ سے زیادہ جاننے والا قرآن شریف کا کون ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ تقریر آپ کی سب بے کار اور بے اصل ہے۔ صحابہ کرامؓ کا طریقہ دیکھنا چاہیے کہ کیا تھا، کیونکہ وہی طریقہ آنحضرتﷺ کا ہے اور وہی نجات دینے والا ہے، محض نام مسلمان ہونے سے کام نہیں چلتا اور فساد عقیدہ کے ساتھ اعمال صالحہ کچھ کام نہیں آتے، جیسا کہ حدیث خوارج میں مذکور ہے۔ يحضراحکم صلاتہ مع صلاتهم۔ الحديث

(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مدلل و مكمل: جلد 7 صفحہ 380)