سوال: ہندہ سنیہ کا نکاح زید شیعہ سے ہو گیا، اب ہندہ کو لوگوں نے یہ شک دلایا ہے کہ شیعہ عموماً کافر ہوتے ہیں، تیرا نکاح زید کے ساتھ صحیح نہیں۔ ایک شخص کے دریافت کرنے سے زید نے بحلف اپنے عقیدے کا اظہار کیا اور کہا کہ میں جو کچھ کہتا ہوں تقیہ نہیں کہتا اور نہ یہ موقع تقیہ کا ہے بلکہ اپنے دلی خیالات کو صحیح صحیح ظاہر کرتا ہوں کہ میں صحبت ابوبکرؓ کا قائل ہوں، قذف عائشہؓ حرام جانتا ہوں، الوہیت علیؓ کا قائل نہیں ہوں، حضرت جبریل علیہ السلام سے ہرگز غلطی نہیں ہوئی، موجودہ قرآن کو اپنا قرآن جانتا ہوں۔
اُسی وقت سائل نے زید سے یہ کہا کہ تمہاری کتاب اصول کافی میں سیدنا جعفرؒ سے ایک حدیث مروی ہے جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے:
واللّٰہ مافیہ من قراءتكم حرف واحد
اس حدیث کا کیا جواب ہے؟ تو زید نے کہا کہ میں اپنے مجتہد سے دریافت کر کے اس کا جواب دوں گا۔ سائل نے پھر زید سے پوچھا کہ موجودہ قرآن محرف ہے یا نہیں؟ زید نے اس کے جواب کو بھی مجتہد کے پوچھنے پر اٹھا رکھا۔ پندرہ دن ہوئے، اس نے جواب نہیں دیا۔ ایسی صورت میں ہندہ کا نکاح زید سے صحیح رہے گا یا نہیں؟
جواب: یہ ظاہر ہے کہ سیدنا جعفرؒ پر افتراء ہے اور وہ رافضی جس سے گفتگو ہوئی ہے، اگر موجودہ قرآن مجید کے محرف ہونے کا قائل ہے تو وہ بھی کافر ہے، اس سے سنیہ کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ على هذا القياس... اگر کوئی دوسرا امر مؤجب کفر اس میں موجود ہے تب بھی سنیہ کا نکاح اس سے صحیح نہیں ہوگا اور اگر وہ جملہ کفریہ عقائد سے برکت ظاہر کرے تو نکاح صحیح ہوگا۔ لیکن رافضیوں کا کسی حال میں اعتبار نہیں ہے کہ تقیہ کی آڑ غضب ہے۔ اس لیے سنیہ کو اس سے علیحدہ ہی کرنا چاہیے۔
(فتاوی دارالعلوم دیوبند مدلل و مكمل: جلد 7 صفحہ 378)