تبرائى شيعہ عورت اگر مسلمان ہو جائے تو وہ دوسرا نکاح کرسکتی ہے:
سوال: ایک عورت خاوند والی شیعہ مذہب ہے اور شوہر بھی شیعہ ہے لیکن اس کے شوہر نے عرصہ دراز سے چھوڑ رکھا ہے اور وہ عورت اپنے باپ کے گھر رہتی ہے اور عورت نے مہروں کی مالش کر کے ڈگری بھی حاصل کر لی اور اس کے شوہر نے نکاح ثانی کر لیا ہے اب وہ عورت اپنا نکاح اہل سنت سے کرنا چاہتی ہے اور خود بھی اہل سنت ہونا چاہتی ہے، اس صورت میں اس عورت سے اہل سنت کو نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اگر شوہر اس کا شیعہ تربائی ہے جو سبّ شیخینؓ کرتا ہے اور عائشہ صدیقہؓ کو تہمت لگاتا ہے اور افک کا قائل ہے تو وہ کافر ہے۔ عورت اگر سنی ہو جاوے تو عدت کے بعد دوسرا نکاح کرنا اس کو جائز ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مدلل و مكمل: جلد 7 صفحہ 155)