حضرت مولانا مفتی محمد حنیف قریشی کا فتویٰ(سربراہ شباب…

حضرت مولانا مفتی محمد حنیف قریشی کا فتویٰ(سربراہ شباب اسلامی پاکستان، مہتمم جامعہ مہریہ ضیاء العلوم، ایبٹ آباد)


شیعہ کا ذبیحہ کھانے کا حکم:

ہر ایسا شخص جو دعویٰ اسلام کے بعد قرآنِ مجید میں تحریف کا قائل ہو، اس میں کمی یا زیادتی کا اعتقاد رکھتا ہو، یا حضرت عائشہ صدیقہؓ کی عفت و عصمت پر تہمت لگاتا ہو، یا کسی غیر نبی کی کسی نبی پر فضیلت کا قائل ہو، یا حضراتِ شیخینؓ کے ایمان کا انکاری ہو، یا ضروریاتِ دینیہ میں سے کسی بھی ضرورتِ دینی کا انکار کرتا ہو، ایسا شخص باجماعِ ائمہ، متکلمین، فقہاءِ اسلام مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ کسی صحیح العقیدہ مؤمن یا مؤمنہ کا نکاح ایسے شخص سے ہرگز منعقد نہیں ہوتا۔ اس ملعون کا ذبیحہ حرام ہے اور ایسا شخص وراثت اور ترکہ سے محروم قرار پائے گا۔ ایسے رافضی تبرّائی شخص کے کفریہ عقائد پر مطلع ہو کر اس کو کافر نہ سمجھنا بلا شبہ کفر ہے۔ ایسے شخص سے سلام، کلام، میل جول، محبت اور مسلمانوں جیسا سلوک کرنا سخت حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ روافض سے اجتناب فرض ہے۔  

(فتویٰ امام اہلِ سنت مع تائید علمائے اہلِ سنت: صفحہ 47)