بعض مغالطات کی نشاندہی اور غلط فہمیوں کا ازالہ - دفاعِ اہلِ…

بعض مغالطات کی نشاندہی اور غلط فہمیوں کا ازالہ

  محمد معاویہ سعدی

صفحہ 3 از 3

ائمہ اربعہ اور اکثر فقہاء اصولین محدثین صوفیاء وغیرہم فکر و عقیدے میں جماعت اہل السنت و الجماعت سے تعلق رکھتے ہیں عقائد کے سلسلے میں ان میں آپس میں جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ یا تو جزوی نوعیت کے ہیں یا ایک دوسرے کے منشاء کو نہ سمجھنے کی بناء پر اصطلاحات کے فرق اور لفظی اختلاف پر مبنی ہیں جیسا کہ محققین نے اس کی تصریح کی ہے بلکہ مختلف فیہ مسائل میں تطبیق بھی بیان فرمائی ہے اس لیے ان اعتقادی مسائل کو عوام کے سامنے چھیڑنے سے منع کیا جاتا ہے۔

اس کے بر خلاف جن مسائل میں اہلِ باطل فرقوں سے اہلِ حق کا اختلاف ہے ان کو بیان کرنا اور عوام کو اس میں حق و باطل کے فرق سے آگاہ کرنا یہ علمائے زمانہ کا فرض منصبی ہے اس میں ہرگز کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔

اب یہاں پر اہلِ حق ہی کے بعض غلو پسند لوگ دونوں حیثیتوں میں فرق ملحوظ نہیں رکھ پاتے اور اہلِ حق کے آپسی اختلافات میں بھی تشدد سے کام لیتے ہیں پھر اس کے رد عمل میں دوسری جانب سے بھی شدت آ جاتی ہے جس سے بلا وجہ آپس میں دوریاں بڑھتی ہیں اور اختلافات میں اضافہ ہوتا ہے۔

حافظ ابنِ دقیق العیدؒ نے الاقتراح (صفحہ57) میں وہ اسباب بیان فرمائے ہیں جن سے اس طرح کی بے اعتدالی اور افراط و تفریط پیدا ہوتی ہے

2: دوسرا سلسلہ فروعی وعملی مسائل کا ہے جن کا مدار نقول کے ساتھ ساتھ فقہی قیاس یعنی استنباط علتِ تعدیہ علت اور تحقیقِ مناط وغیرہ پر بھی ہوتا ہے اجتہاد و قیاس میں آراء کا اختلاف فطری بات ہے اس لیے اس میں ائمہ اربعہ کے اجتہادی اختلافات کثرت سے پیش آئے ہیں۔

اور ایسے مسائل میں جمہور کی اصطلاح وہاں استعمال کی جاتی ہے جہاں کسی مسئلے میں ایک طرف زیادہ علماء ہوں دوسری طرف کم اس میں کسی جماعت یا مذہب کے لیے یہ اصطلاح خاص نہیں ہے نہ معلوم کتنے مسائل ہیں جن میں حنفیہ کی رائے وہی ہے جو دیگر اکثر حضرات کی ہے اس لیے ان مواقع میں وہ جمہور کے مفہوم میں شامل مانے جاتے ہیں اور ان کے بالمقابل شافعیہ یا مالکیہ یا حنابلہ ان مسائل میں جمہور کے خلاف ہوتے ہیں اور کہیں اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔

اصول و فروع کے ان ہی دو سلسلوں کی وجہ سے کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص فروعی طور پر ائمہ اربعہ میں سے کسی کی طرف اپنا انتساب رکھتا ہو مگر اصولی طور پر وہ کسی باطل فرقے (معتزلہ روافض نیچری تجدد پسند طبقات) سے وابستہ ہو۔

ساتواں مغالطہ: ابھی آخر میں ایک وضاحت نامہ جاری ہوا ہے جس میں اپنے باطل عقائد میں سے کسی بھی عقیدے سے رجوع نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان موضوعات پر مزید اصرار اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر سابقہ الزامات کو علی حالہ باقی رکھا گیا ہے: 

وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرۡشِدًا ۞(سورۃ الكہف: آیت 17)

اس وضاحت نامہ کے ذریعہ صرف متعلقہ افراد سے اپنے ذاتی تعلقات استوار کرنے اور بالا بالا معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے گویا وہ عذر گناہ بدتر از گناہ کا مصداق ہے۔


صفحہ 3 از 3