پہلا مغالطہ: صحابی کی تعریف سے متعلق ائمہ دین کے واضح بیانات کے باوجود بعض لوگوں کے ہاں اس باب میں سخت مغالطات یا غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں
1: کسی مسلمان بالخصوص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان کی عملی غلطیوں پر طعنہ دینا ان کی غیبتیں کرنا تاریخ کی کمزور روایتوں کی بنیاد پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بہتان باندھنا اور الزام تراشی کرنا۔
2: عین روافض کے طریقے پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو منافقین کے ساتھ خلط کرنے کی خطرناک کوشش جس سے کہ سارا دین ہی مشکوک ہو کر رہ جاتا ہے حالانکہ علماء نے صراحت کی ہے:
إِنَّهُ لَمْ يُوجَدْ قَطُّ رِوَايَةٌ عَمَّن لُّمِزَ بِالنِّفَاقِ مِنَ الصَّحَابَةِ۔ (البحر المحيط للزركشی: جلد 4 صفحہ300)
ذخیرہ احادیث میں کوئی بھی روایت کسی ایسے شخص سے نہیں ہے جو نفاق سے متہم کیا گیا ہو۔
شیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
وَلِقَائِلٍ أَن يَّقُولَ إِنَّ هَذَا النَّفْی مَبْنِی عَلَى مَعْرِفَةِ أَسْمَائِهِمْ أَوَّلًا وَجَوَابُهُ نَعَمْ أَسْمَاؤُهُم مَّعْرُوفَةٌ أَحْصَاهَا۔
(البلاذری فی انساب الاشراف: جلد1 صفحہ 325)
پھر یہ بھی غور کرنے کا پہلو ہے کہ یہ منافقین تو غزوہ احد ہی سے پائے جاتے تھے تو بغیر کسی شرعی دلیل کے ان کے ساتھ بعد میں اسلام لانے والوں کو خلط کرنے کی کوشش کرنا کیسا خطرناک ملحدانہ اور کفریہ اقدام ہے؟
نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ هَذَا الْخِذْلَان۔
3: صحابی کی شاذ یا باطل تعریفات کو جمہور کی تعریف باور کرانے کی کوشش اور اپنی تلبیسات کو سخاویؒ اور سیوطیؒ جیسے ائمہ اہلِ سنت کے سر تھوپنے کی کوشش۔
4: اہلِ حق میں سے جن حضرات نے صحابی ہونے کے لیے کچھ مدت ساتھ رہنے کی شرط لگائی بھی ہے ان کے ہاں بھی اس میں دو پہلو ہیں ایک مطلق شرف صحابیت کا دوسرا علمی و فکری مقتدا اور متبوع ہونے کا تو یہ شرط مقتدا بننے کے لیے ہے مطلق صحابی ہونے کے لیے نہیں مگر جن لوگوں نے اس مسئلہ میں خلط کیا ہے انہوں نے علامہ سخاویؒ کی ہوئی اس وضاحت سے کوئی تعرض نہیں کیا۔
5: پھر جن بزرگوں نے کچھ مدت ساتھ رہنے کی قید لگائی بھی ہے تو ان کے اقوال بھی سال دو سال یا غزوہ دو غزوہ ہی کے دائرے میں ہیں فتح مکہ (سنہ 8 ھ) میں ہوئی اس کے بعد آپﷺ کی وفات (سنہ 11 ھ) تک غزوہ حنین غزوہ اوطاس اور غزوہ تبوک تین غزوات ہوئے تو جو حضرات فتح مکہ کے موقع پر ایمان لے آئے وہ تو یقیناً اور جو غزوہ تبوک (سنہ 9 ھ) سے پہلے بھی مشرف باسلام ہو گئے تھے وہ تمام حضرات بھی ان بزرگوں کی تعریف کے لحاظ سے بھی صحابی ہو جاتے ہیں۔
مگر مبتدعین و معاندین ان حضرات کی تعریفات کے پس پردہ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اظہار بغض کرتے ہیں جو متفق علیہ طور پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہیں مثلاً:
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اہلِ بیعتِ رضوان میں سے ہیں جن کی مغفرت کے بارے میں نصِ قطعی ہے۔
سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لا چکے تھے اور مختلف غزوات و سرایا میں شریک ہوئے تھے بلکہ دونوں ہی بعض سرایا کے امیر بھی بنائے گئے۔
سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے ہیں اور ایک سے زائد غزوات میں شرکت فرمائی ہے پھر مدینہ منورہ میں آپﷺ کے ساتھ رہے ہیں۔
6: اور نعوذ باللہ اب تو معاملہ اور آگے بڑھ چکا ہے کہ حضرات شیخینؓ پر بھی تبری بازی شروع ہوگئی ہے اور ان کی خلافت کے قیام کی صحت تک مشکوک قرار دی جا رہی ہے علامہ حدادی یمنی حنفیؒ الجوہرة النيرة: جلد، 2 صفحہ، 272 میں فرماتے ہیں:
مَن سَبَّ الشَّيْخَيْنِ أَوْ طَعَنَ فِيهِمَا يَكْفُرُ وَيَجِبُ قَتْلُهُ ثُمَّ إِن رَّجَعَ وَتَابَ وَجَدَّدَ الْإِسْلَامَ هَلْ تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ أَمْ لَا قَالَ الصَّدْرُ الشَّهِيدُ لَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ وَإِسْلَامُهُ وَبِهِ أَخَذَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ السَّمَرْقَنْدِی وَأَبُو نَصْرٍ الدَّبُوسِی۔
سب شیخینؓ کرنے والے کے لیے فقہائے حنفیہ کا ایک قول یہی ہے۔
دوسرا مغالطہ: امام اسحاق بن راہویہؒ سے نقل کیا جاتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے فضائل میں کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ہوئی ہے۔
الف: اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ عرض ہے کہ فضائل کا باب تو ایک اضافی چیز ہے نہ معلوم کتنے صحابہ اور صحابیات بناتِ طیبات بلکہ بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کی ذاتِ قدسیہ ایسی ہیں کہ ان کے نام اور شخصیت کی تعیین کے ساتھ کوئی حدیث وارد نہیں ہوئی ہے تو اس میں نقص کون سا ہے کیا کسی ذات کی فضیلت کے لیے تنہا اس کا نبی یا صحابی ہونا کافی نہیں۔
ب: دوسری بات یہ کہ امام اسحاق بن راہویہؒ کا یہ ارشاد ایک محدثانہ اصطلاح کے پسِ منظر میں ہے تفصیل کا موقع نہیں خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اصطلاحی صحت کی نفی سے نہ ثبوت کا انکار لازم آتا نہ ضعف کا اثبات لہٰذا حسن ہونے کا احتمال باقی رہتا ہے جیسا کہ حافظ ابنِ حجرؒ وغیرہ محققین نے اس کی صراحت فرمائی ہے اور علامہ عبد الحی لکھنویؒ الرفع والتکمیل: صفحہ 191، 198 میں اس پر مستقل فصل بھی قائم فرمائی ہے۔
ج: چنانچہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے فضائل میں امام ترمذیؒ (3842) نے ایک حدیث کی تخریج فرما کر اس پر حسن ہونے کا حکم لگایا ہے اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
قَالَ النبیﷺ لِمُعَاوِيَةَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَّهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ۔
د: اس کے علاوہ بابِ فضائل میں تو باتفاق محدثین حدیث ضعیف بھی معتبر ہے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے فضائل و مناقب میں ضعیف احادیث تو کئی ایک موجود ہیں آپ کے حالات اور فضائل و مناقب پر علماء نے مستقل طور پر کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں۔
ہ: نیز اس کے علاوہ کتابتِ وحی کا شرف اولین بحری غزوہ کی قیادت کی سعادت اور غزوہ قسطنطنیہ وغیرہ سے متعلق ایسی احادیثِ صحیحہ بھی ہیں جن میں دی گئی بشارتوں کے آپ باجماع اہلِ حق اولین مصداق ہیں۔
سن کر تمہارا نام مسلماں تو کھل اٹھے
لیکن عدوئے دین کا چہرہ بگڑ گیا
حضرت معاویہؓ وہ حضرت علیؓ سے جنگ
پائے خطا تھا اور رہ جنت پہ پڑ گیا۔
وَمَن يَّكُن يَطْعَنُ فِی مُعَاوِيَةَ
فَذَلِكَ كَلْبٌ مِّن كِلَابِ الْهَاوِيَةِ
تیسرا مغالطہ: یہاں دو بحثیں الگ الگ تھیں ایک عدالتِ صحابہ کی دوسری مشاجراتِ صحابہ کی تو اہل السنت و الجماعت کے نزدیک عدالتِ صحابہ کی بحث تو عقیدے کے تحت آتی ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو عادل اور ثقہ ماننا ضروری ہے مگر مشاجراتِ صحابہ کی بحث عقیدے کا موضوع نہیں بنائی جاتی گزشتہ صفحات میں تسلسل اور تواتر کے ساتھ یہ بات گزر چکی ہے کہ مشاجراتِ صحابہ کا موضوع لپیٹ کر رکھنے کا ہے عوام بلکہ عامی اور سطحی قسم کے اہلِ علم کے سامنے بھی بیان کرنے کا نہیں اور نہ ایسے لوگوں کے بیان کرنے کا ہے اور جہاں بھی بیان کیا جائے گا تو بغیر فریق یا حکم اور فیصل بنے ہوئے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں حسنِ ظن کے پہلو کو سامنے رکھ کر گفتگو کی جائے گی۔
مگر اس سلسلہ میں خلط کا شکار لوگ عدالت کے مسئلے کو مشاجرات کے موضوع سے خلط کر کے مشاجرات کو بھی عقائد کا حصہ قرار دینا چاہتے ہیں۔
چوتھا مغالطہ: یہ بات بہت زور شور سے کہی جا رہی ہے کہ یہ موضوعات اگر ایسے ہی شجرہ ممنوعہ تھے تو مؤرخین و محدثین نے ان کو اپنے یہاں کیوں بیان کیا؟
1: اس کا ایک جواب تو پہلے دیا جا چکا ہے۔ (صفحہ 19، 20)
2: اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ اگر کوئی مؤرخ اپنی تاریخ میں کوئی حکایت نقل کرتا ہے یا اسی طرح کوئی محدث اپنی کتاب میں کوئی روایت بیان کرتا ہے تو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کس حیثیت سے بیان کر رہا ہے دلیل اور حجت کے طور پر یا صرف اس کو دور کرنے کے لیے جیسا کہ اس کے نمونے ابھی صحابی کی تعریف کے سلسلے میں گذرے کہ سخاویؒ وغیرہ نے بعض تعریفات صرف رد ہی کے لیے ذکر کی تھیں تا کہ خالی الذہنی میں کوئی شخص ان کو قبول نہ کرلے علامہ ذہبیؒ وغیرہ محدثین کثرت سے اس طرح کے جملے کہتے ہیں:
ذَكَرْنَاهُ لِلتَّعَجُّبِ نَبَّهْنَا عَلَيْهِ لِئَلَّا يُغْتَرَّ بِهِ۔
کہیں کہیں صاف نکارت غرابت ضعف وضع یا بطلان کا حکم بھی لگاتے ہیں
3: اور بعض مرتبہ صرف واقعات کی کڑی ملانا اور اپنے تک پہنچی ہوئی بات آگے بڑھا دینے کا شوق اس کا محرک ہوتا ہے مؤرخ ابنِ جریر طبریؒ اپنی تاریخ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
فَمَا يَكُن فِی كِتَابِی هَذَا مِن خَبَرٍ ذَكَرْنَاهُ عَن بَعْضِ الْمَاضِينَ مِمَّا يَسْتَنْكِرُهُ قَارِئُهُ أَوْ يَسْتَشْنِعُهُ سَامِعُهُ مِن أَجْلِ أَنَّهُ لَمْ يَعْرِف لَّهُ وَجْهًا فِی الصِّحَّةِ وَلَا مَعْنًى فِی الْحَقِيقَةِ فَلْيَعْلَمْ أَنَّهُ لَمْ يُؤْتَ فِی ذَلِكَ مِن قِبَلِنَا وَإِنَّمَا أُتِيَ مِن قِبَلِ بَعْضِ نَاقِلِيهِ إِلَيْنَا وَإِنَّا إِنَّمَا أَدَّيْنَا ذَلِكَ عَلَى نَحْوِ مَا أُدِّی إِلَيْنَا۔
اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طبری کا مقصود صرف ان تمام رطب و یابس اخبار و حکایات کو جمع کر دینا تھا جو ان تک پہنچی ہیں ان میں سہی غلط کی کوئی بحث نہیں کی گئی ہے۔
4: اسی طرح حافظ ابنِ کثیرؒ البدايۃ والنہايۃ: جلد 8 صفحہ220 میں کربلاء کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَلَوْلَا أَنَّ ابْنَ جَرِيرٍ وَغَيْرَهُ مِنَ الْحُفَّاظِ وَالْأَئِمَّةِ ذَكَرُوهُ مَا سُقْتُهُ۔
معلوم ہوا کہ بہت سی روایات ایک دوسرے کی متابعت میں بھی بیان کر دی جاتی ہیں۔
5: حافظ ذہبیؒ فرماتے ہیں:
وَوَقَعَ فِی كُتُبِ التَّوَارِيخِ وَكُتُبِ الْجَرْحِ وَالتَّعْدِيلِ أُمُورٌ عَجِيبَةٌ وَالْعَاقِلُ خَصْمُ نَفْسِهِ وَمِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ۔ (سير أعلام النبلاء: جلد10 صفحہ93)
تاریخ اور جرح و تعدیل کی کتابوں میں عجیب عجیب باتیں آ گئی ہیں اب عقل مند وہ ہے جو پہلے خود کو دیکھے اور اچھا مسلمان وہ ہے جو بے وجہ کے موضوعات اور بے فائدہ معاملات سے خود کو دور رکھے۔
پانچواں مغالطہ: اعتقادی و اصولی گمراہیوں کو عملی و فروعی لغزشوں سے خلط کرنا اور اسی بناء پر حد و اختلاف یا مواقع اصلاح میں خلط۔
دین میں یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ کسی مسلمان کی عملی لغزشوں اور غلطیوں کا بغیر شرعی ضرورت کے اس کے پسِ پشت تذکرہ کرنا غیبت کہلاتا ہے جو حرام ہے اور اس جرم کی شناعت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب کہ اس گنہ گار کا انتقال بھی ہو چکا ہو اور اگر وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء میں سے ہو تو پھر تو اس مردار گوشت کی سمیت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
لُحُومُ الْعُلَمَاءِ مَسْمُومَةٌ وَأَسَمُّ مِنْهَا لُحُومُ الصَّحَابَةِ وَالْأَوْلِيَاءِ۔
اور اس سے بھی بڑھ کر کسی صحابی کی اجتہادی خطا کو طعن و تشنیع کا موضوع بنانا تو یہ تو سوائے اپنی بدبختی کی دلیل فراہم کرنے اور رسوائی کا سامان بہم پہنچانے کے اور کچھ نہیں ہے اور جس شخص کی طرف سے یہ امور پیش آئے ہیں اس نے تو کچھ بھی نہ چھوڑا ایسی غلطیوں کو بھی بیان کر دیا جن کی توبہ کی قبولیت اور تلافی کی بشارت بھی مل چکی تھی۔
اس کے برخلاف فکر و عقیدہ کی غلطیوں پر تنبیہ اس کے داعیوں پر بقدر ضرورت اور بوقت ضرورت رد یا ملحدوں اور بد دینوں اور اہلِ تلبیس کی تلبیسات کی نشاندہی اسی طرح راویوں کی اغلاط کی گرفت یہ سب ضروریات دین میں سے ہے۔ (مستفاد از کتب اصولِ حدیث)
چھٹا مغالطہ: جمہور کے مفہوم میں خلط فکری و عملی غلطیوں میں خلط کے نتیجہ میں جمہور کے مفہوم میں خلط۔
یہ معلوم ہی ہے کہ امت میں تقلید و اتباع کے لیے دو سلسلے جاری ہیں:
1: ایک اصولی اور اعتقادی مسائل سے متعلق جن کا سارا کا سارا مدار شرعی نصوص اور روایتی نقول یعنی کتاب اللہ سنت رسول اللہ اور تعامل سلف صالحین پر ہوتا ہے ان میں قیاس کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔
(کما صرح بہ الامام البزدوی فی میزان الاصول: جلد 1 صفحہ 7)
ایسے مسائل میں اہلِ حق کی جماعت کے لیے اہلِ السنت و الجماعت کا لقب اور جمہور کا عنوان اختیار کیا گیا ہے جس کے ذریعے اہلِ بدعت اور اہلِ باطل روافض خوارج نواصب جبریہ قدریہ معتزلہ مرجئہ جہمیہ مشبہ مجسمہ معطلہ اور نیچری وغیرہ فرقوں سے امتیاز مقصود ہوتا ہے۔
ائمہ اربعہ اور اکثر فقہاء اصولین محدثین صوفیاء وغیرہم فکر و عقیدے میں جماعت اہل السنت و الجماعت سے تعلق رکھتے ہیں عقائد کے سلسلے میں ان میں آپس میں جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ یا تو جزوی نوعیت کے ہیں یا ایک دوسرے کے منشاء کو نہ سمجھنے کی بناء پر اصطلاحات کے فرق اور لفظی اختلاف پر مبنی ہیں جیسا کہ محققین نے اس کی تصریح کی ہے بلکہ مختلف فیہ مسائل میں تطبیق بھی بیان فرمائی ہے اس لیے ان اعتقادی مسائل کو عوام کے سامنے چھیڑنے سے منع کیا جاتا ہے۔
اس کے بر خلاف جن مسائل میں اہلِ باطل فرقوں سے اہلِ حق کا اختلاف ہے ان کو بیان کرنا اور عوام کو اس میں حق و باطل کے فرق سے آگاہ کرنا یہ علمائے زمانہ کا فرض منصبی ہے اس میں ہرگز کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔
اب یہاں پر اہلِ حق ہی کے بعض غلو پسند لوگ دونوں حیثیتوں میں فرق ملحوظ نہیں رکھ پاتے اور اہلِ حق کے آپسی اختلافات میں بھی تشدد سے کام لیتے ہیں پھر اس کے رد عمل میں دوسری جانب سے بھی شدت آ جاتی ہے جس سے بلا وجہ آپس میں دوریاں بڑھتی ہیں اور اختلافات میں اضافہ ہوتا ہے۔
حافظ ابنِ دقیق العیدؒ نے الاقتراح (صفحہ57) میں وہ اسباب بیان فرمائے ہیں جن سے اس طرح کی بے اعتدالی اور افراط و تفریط پیدا ہوتی ہے
2: دوسرا سلسلہ فروعی وعملی مسائل کا ہے جن کا مدار نقول کے ساتھ ساتھ فقہی قیاس یعنی استنباط علتِ تعدیہ علت اور تحقیقِ مناط وغیرہ پر بھی ہوتا ہے اجتہاد و قیاس میں آراء کا اختلاف فطری بات ہے اس لیے اس میں ائمہ اربعہ کے اجتہادی اختلافات کثرت سے پیش آئے ہیں۔
اور ایسے مسائل میں جمہور کی اصطلاح وہاں استعمال کی جاتی ہے جہاں کسی مسئلے میں ایک طرف زیادہ علماء ہوں دوسری طرف کم اس میں کسی جماعت یا مذہب کے لیے یہ اصطلاح خاص نہیں ہے نہ معلوم کتنے مسائل ہیں جن میں حنفیہ کی رائے وہی ہے جو دیگر اکثر حضرات کی ہے اس لیے ان مواقع میں وہ جمہور کے مفہوم میں شامل مانے جاتے ہیں اور ان کے بالمقابل شافعیہ یا مالکیہ یا حنابلہ ان مسائل میں جمہور کے خلاف ہوتے ہیں اور کہیں اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔
اصول و فروع کے ان ہی دو سلسلوں کی وجہ سے کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص فروعی طور پر ائمہ اربعہ میں سے کسی کی طرف اپنا انتساب رکھتا ہو مگر اصولی طور پر وہ کسی باطل فرقے (معتزلہ روافض نیچری تجدد پسند طبقات) سے وابستہ ہو۔
ساتواں مغالطہ: ابھی آخر میں ایک وضاحت نامہ جاری ہوا ہے جس میں اپنے باطل عقائد میں سے کسی بھی عقیدے سے رجوع نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان موضوعات پر مزید اصرار اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر سابقہ الزامات کو علی حالہ باقی رکھا گیا ہے:
وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرۡشِدًا ۞(سورۃ الكہف: آیت 17)
اس وضاحت نامہ کے ذریعہ صرف متعلقہ افراد سے اپنے ذاتی تعلقات استوار کرنے اور بالا بالا معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے گویا وہ عذر گناہ بدتر از گناہ کا مصداق ہے۔