اہلِ تشیع کے ذبیحہ کا حکم:
علمائے محققین کے نزدیک موجودہ دور کے اہلِ تشیع، تعصب اور بغض و عناد کی وجہ سے اور کفریہ عقائد رکھنے کی وجہ سے ان کے ذبیحہ کا حکم مرتدین کے حکم میں ہے، کھانے کے قابل نہیں۔
لِمَا قَالَ الْعَلَّامَةُ طَاهِرُ بْنُ عَبْدِ الرَّشِيدِ الْبُخَارِی: الرَّافِضِی إِن كَانَ يَسُبُّ الشَّيْخَيْنِ وَيَلْعَنُهُمَا فَهُوَ كَافِرٌ، وَإِن كَانَ يُفَضِّلُ عَلِيًّا عَلَى أَبِی بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا يَكُونُ كَافِرًا وَلَكِنَّهُ مُبْتَدِعٌ
(خلاصہ الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ381)
علامہ عبدالرشید بخاریؒ نے کہا کہ اگر رافضی حضرات شیخین سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو گالی دیتا ہو اور ان پر لعن طعن کرتا ہو وہ کافر ہے، اور اگر صرف حضرت علیؓ کو شیخینؓ پر فضیلت دیتا ہو وہ کافر نہیں، فاسق بدعتی ہے۔
(جدید معاملات کے شرعی احکام: جلد3 صفحہ109)