شیعہ کا ذبیحہ کھانے کا حکم:
سوال: شیعوں میں چند فرقے ہیں، سب کا ذبیحہ ناجائز ہے یا کسی خاص فرقے کا؟
جواب: جو رافضی تبرّا گو ہو اور سبّ شیخین رضی اللہ عنہما کرتا ہو، اس کو بعض فقہاء نے کافر و مرتد کہا ہے۔ اس کے ذبح کیے ہوئے جانور سے مسلمان سنیوں کو احتیاط لازم ہے، ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے۔
اصل یہ ہے کہ شیعوں کے بعض فرقے بالاتفاق کافر ہیں، وہ جو بہتان حضرت عائشہؓ کے معتقد ہیں، یا الوہیتِ حضرت علیؓ کے قائل ہیں، یا سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کے منکر ہیں، یا بداء کے قائل ہیں۔ ان کے ساتھ مناکحت (شادی بیاہ) اور ان کا ذبح کیا ہوا، بالاتفاق ناجائز ہے۔ اور ایک فرقہ جو سبّ شیخینؓ کرتا ہو اور امورِ بالا کا معتقد نہ ہو، اس کے کفر میں اختلاف ہے۔ ان کے ذبیحہ اور ان سے مناکحت میں احتیاط کرنا لازم ہے۔ اور ایک فرقہ جو محض تفضیلیہ ہے کہ حضرت علیؓ کو خلفائے ثلاثہؓ سے افضل جانتا ہے، مگر کسی کو برا نہیں کہتا اور سبّ شیخینؓ نہیں کرتا، ان کا ذبیحہ حلال ہے اور وہ مسلمان ہے، اگرچہ سنی نہیں ہے۔
(مسائل رفعت قاسمی: مسائل عیدین و قربانی: جلد 4 صفحہ 132)