سب و شتم صحابہ کا شرعی حکم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سب و شتم صحابہ کا شرعی حکم

  محمد معاویہ سعدی

صفحہ 3 از 3

إِنَّ الْأُمَّةَ مُجْمِعَةٌ عَلَى تَعْدِيلِ جَمِيعِ الصَّحَابَةِ حَيْثُ نَصَّ اللّٰہُ وَرَسُولُهُ عَلَى عَدَالَتِهِمْ فَهَلْ بَعْدَ تَعْدِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِﷺ تَعْدِيلٌ فَالصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُولٌ وَمَن لَّابَسَ الْفِتَنَ مِنْهُمْ فَذَلِكَ بِإِجْمَاعِ الْعُلَمَاءِ الَّذِينَ يُعْتَدُّ بِهِمْ فِی الْإِجْمَاعِ إِحْسَانًا لِّلظَّنِّ بِهِمْ وَنَظَرًا لِّمَا تَمَهَّدَ لَهُم مِّنَ الْمَآثِرِ وَحَمْلًا لَهُمْ فِی ذَلِكَ عَلَى الِاجْتِهَادِ فَتِلْكَ أُمُورٌ مَبْنَاهَا عَلَيْهِ وَكُلُّ مُجْتَهِدٍ مُصِيبٌ أَوِ الْمُصِيبُ وَاحِدٌ وَالْمُخْطِئُ مَعْذُورٌ بَلْ مَأْجُورٌ۔

چونکہ اللہ و رسول نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعدیل فرما دی ہے اس لیے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت پر امت کا اجماع ہے اس لیے کہ اللہ و رسول کی تعدیل کے بعد کسی اور کی تعدیل کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی لہٰذا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خواہ ان کا اختلاف اور مشاجرے سے تعلق ہو یا نہ ہو سب کی عدالت پر امت کے ان تمام طبقات کا اجماع ہے جن کا اجماع کی بحث میں اعتبار کیا جاتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے حسنِ ظن کی بناء پر اور غزوات و فتوحات اور اقامت دین کے سلسلے میں ان کے بے نظیر کارناموں کی بنا پر اور ان سے جو غلطیاں ہوئیں ان کا مبنی اجتہاد تھا اور مجتہد کے بارے میں قاعدہ ہے کہ وہ خطا کی صورت میں معذور ہوتا ہے بلکہ ایک اجر کا بھی مستحق ہوتا ہے۔


صفحہ 3 از 3