سب اور شتم یہ دونوں عربی الفاظ ہیں جن کے معنیٰ ہیں نقد و تبصرہ اور برا تذکرہ۔
اس لیے ان الفاظ کو بازاری قسم کی گالم گلوچ کے لیے خاص سمجھنا درست نہیں علامہ سخاویؒ فرماتے ہیں۔
إِنَّ الْوَصْفَ لَهُمْ بِغَيْرِ الْعَدَالَةِ سَبٌ۔ (فتح المغيث: جلد 4 صفحہ 96)
ترجمہ: ان کی طرف خلاف عدالت کوئی بھی بات منسوب کرنا سب کے تحت آتا ہے۔
پھر یہاں ایک بات اور سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ ایک چیز ہے غیبت دوسری چیز ہے بہتان صحیح حدیث میں یہ وضاحت وارد ہوئی ہے کہ کسی مسلمان کے اندر یقینی طور پر موجود عیب کو بلا ضرورت شرعیہ بیان کرنا غیبت کہلاتا ہے جس کا حکم سبھی کو معلوم ہے جب کہ غلط طور پر اس کی طرف کسی برائی کے انتساب کو بہتان کہتے ہیں جو غیبت سے بھی بدتر ہے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متعلق کسی بھی قسم کا منفی اظہارِ رائے کم از کم غیبت کے زمرے میں تو بہر حال آتا ہے۔
نیز جس طرح اپنے نسبی باپ دادا کی خطاؤں اور لغزشوں کو جانتے بوجھتے بھی چھپایا اور نظر انداز کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بھی ہے:
فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا ۞(سورۃ الاسراء: آیت 23)
ترجمہ: ان کو اف تک نہ کہو ان کو جھڑکو بھی نہیں بلکہ ان سے تمیز اور نرمی سے بات کیا کرو۔
اس سے کہیں زیادہ اپنے روحانی ایمانی علمی اور عملی آباء و اجداد کی پردہ پوشی اغماض اور ادب و احترام اور محبت و تعظیم کی ضرورت ہے۔
1: صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعریف کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ الخ۔(سورۃ الفتح: آیت 29)
ترجمہ: تاکہ دل جلائے ان کے ذریعے کافروں کا۔
امام مالکؒ فرماتے ہیں جس کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے کچھ بھی غیظ اور کھوٹ ہوگا وہ اس آیت کا مصداق ہے یعنی اس کے اندر کفر کی بو پائی جاتی ہے اسی وجہ سے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جلتا ہے
مفسر قرطبیؒ امام مالکؒ کے قول کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
لَقَدْ أَحْسَنَ مَالِكٌ فِی مَقَالَتِهِ وَأَصَابَ فِی تَأْوِيلِهِ فَمَن نَّقَصَ وَاحِدًا مِّنْهُمْ أَوْ طَعَنَ عَلَيْهِ فِی رِوَايَتِهِ فَقَدْ رَدَّ عَلَى اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَأَبْطَلَ شَرَائِعَ الْمُسْلِمِينَ۔
اس کے بعد امام قرطبیؒ نے سبّ صحابہ کی ممانعت میں بہت سی آیات و احادیث بھی پیش کیں اور اس بارے میں اہلِ السنت والجماعت کے مسلک کو پوری وضاحت کے ساتھ محقق فرما دیا ہے۔(تفسیر قرطبی: جلد16 صفحہ 297)
2: مختلف احادیث میں سبِ صحابہ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید و تبصرے کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔
ایک حدیث شریف میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
اللهَ اللهَ فِی أَصْحَابِی لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِی فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّی أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِی أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِی وَمَنْ آذَانِی فَقَدْ آذَى اللّٰہ وَمَنْ آذَى اللهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ)۔(ترمذی: 3862)
ترجمہ: اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں میرے بعد ان کو اپنی تنقید کا نشانہ مت بنانا جو ان سے محبت کرتا ہے تو وہ میری نسبت ہی کا خیال کر کے کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے ہی بغض کا نتیجہ ہے جو انہیں ایذاء پہنچائے اس نے گویا مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی تو اس نے یقیناً اللہ کو ناراض کیا اور جس نے اللہ کو ناراض کیا تو قریب ہے کہ اللہ اس کی پکڑ فرمالیں۔
ایک اور حدیث صحیح میں سب صحابہ سے ممانعت وارد ہوئی ہے آپ نے سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِی۔ (بخاری: 3673 مسلم 2540)
علامہ سخاویؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جب ایک صحابی کو دوسرے صحابی کو کچھ کہنے سے منع کیا جا رہا ہے تو غیر صحابی کے لیے تو یہ ممانعت بدرجہ اولیٰ ہوگی اس لیے کہ قاعدہ ہے کہ ایسے مواقع پر عموم لفظ کا اعتبار کیا جاتا ہے خصوص مورد کا نہیں یہی اکثر کی رائے ہے اور اسی کو قاضی عیاضؒ نے بھی درست قرار دیا ہے۔ (فتح المغيث: جلد 4 صفحہ 86، 96)
3: جب کسی عام مسلمان کا سِباب فسق ہے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سِباب تو انتہائی خطرناک درجے تک پہنچتا ہے اسی لیے امام احمدؒ فرماتے ہیں:
إِذَا رَأَيْتَ رَجُلًا يَذْكُرُ أَحَدًا مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِﷺ بِسُوءٍ فَاتَّهِمْهُ عَلَى الْإِسْلَامِ۔(تاريخِ دمشق: جلد 59 صفحہ 209)
ترجمہ: کہ جب کسی کو دیکھو کہ کسی صحابی پر تنقید کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ اس کا دین مشکوک ہے۔
4: سئل أحمد عن رجل انتقص معاوية وعمرو بن العاص أيقال له رافضی قال إِنَّهُ لَمْ يَجْتَرِئْ عَلَيْهِمَا إِلَّا وَلَهُ خَبِيثَةٌ مَا يُبْغِضُ أَحَدٌ أَحَدًا مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِﷺ إِلَّا وَلَهُ دَاخِلَةٌ سُوءٌ۔ (تاريخِ دمشق: جلد59 صفحہ210)
ترجمہ: امام احمدؒ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص سیدنا امیرِ معاویہؓ یا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی تنقیس کرتا ہے کیا اس کو رافضی کہا جائے گا فرمایا ان کی تنقیس کی جرأت وہی شخص کر سکتا ہے جو بد باطن ہو کوئی بھی کسی بھی صحابی رسول سے اگر بغض رکھتا ہے تو یہ اس کے بد باطن ہونے کی علامت ہے۔
5: بلکہ اہل السنت والجماعت کے عقائد کی سب سے مستند ترین کتاب العقیدة الطحاوية: صفحہ 80، 81 میں یہ اضافہ بھی ہے
وَنُحِبُّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَلَا نُفَرِّطُ فِی حُبِّ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَلَا نَتَبَرَّأُ مِنْ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنُبْغِضُ مَنْ يُبْغِضُهُمْ وَبِغَيْرِ الْخَيْرِ يَذْكُرُهُمْ وَلَا نَذْكُرُهُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ وَحُبُّهُمْ دِينٌ وَإِيمَانٌ وَإِحْسَانٌ وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ وَنِفَاقٌ وَطُغْيَانٌ۔
ترجمہ: ہم تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اللہﷺ سے محبت کرتے ہیں کسی کی محبت میں بھی کمی نہیں کرتے نہ کسی سے اظہار براءت کرتے ہیں ہاں جو ان سے بغض رکھتا ہے یا خیر کے علاوہ کے ساتھ ان کا ذکر کرتا ہے تو ہم اس سے بغض رکھتے ہیں ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تذکرہ خیر ہی کے ساتھ کرتے ہیں ان کی محبت دین ایمان اور احسان کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا موجب کفر اور نفاق اور سرکشی کی علامت ہے۔
اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہلِ باطل سے بغض رکھنا دین میں مطلوب ہے نہ کہ تجدد پسندوں کی طرح کہ حق و باطل میں بھی خلط اور اہل حق اور اہلِ باطل میں بھی خلط۔
6: امام نوویؒ شرح مسلم باب تحریم سب الصحابة میں فرماتے ہیں:
وَاعْلَمْ أَنَّ سَبَّ الصَّحَابَةِ رَضِی اللهُ عَنْهُمْ حَرَامٌ مِنْ فَوَاحِشِ الْمُحَرَّمَاتِ سَوَاءٌ مَنْ لَابَسَ الْفِتَنَ مِنْهُمْ وَغَيْرُهُ لِأَنَّهُمْ مُجْتَهِدُونَ فِي تِلْكَ الْحُرُوبِ مُتَأَوِّلُونَ قَالَ الْقَاضِي وَسَبُّ أَحَدِهِم مِّنَ الْمَعَاصِی الْكَبَائِرِ وَمَذْهَبُنَا وَمَذْهَبُ الْجُمْهُورِ أَنَّهُ يُعَزَّرُ وَقَالَ بَعْضُ الْمَالِكِيَّةِ يُقْتَلُ۔
ترجمہ: جان لو کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہنا حرام ہے سخت ترین محرمات میں سے ہے خواہ وہ صحابی فتنے کے حالات سے دو چار ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں سب کا حکم ایک ہی ہے اس لیے کہ ان اختلافات میں سب ہی کا مبنی اجتہاد اور تاویل تھا قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کبیرہ گناہوں میں سے ہے ہمارا اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اس کے مرتکب کو سزا تو دی جائے گی مگر قتل نہیں کیا جائے گا جب کہ بعض مالکیہ فرماتے ہیں کہ سزا کے طور پر قتل کر دیا جائے گا۔
7: قاضی ابوبعلی حنبلیؒ طبقاتِ حنابلہ: جلد 2 صفحہ37 میں فرماتے ہیں:
وَاعْلَمْ أَنَّهُ مَن تَنَاوَلَ أَحَدًا مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِﷺ فَاعْلَمْ أَنَّهُ أَرَادَ مُحَمَّدًاﷺ وَقَدْ آذَاهُ فِی قَبْرِهِ۔
ترجمہ: جو شخص کسی صحابی رسول کو نشانہ ملامت بنا رہا ہے تو یقین کر لو کہ وہ محمدﷺ ہی کو کچھ کہنا چاہتا ہے اور قبر شریف میں آپ ہی کی ذات پاک کو تکلیف پہنچا رہا ہے۔
8: تاريخِ دمشق: جلد71 صفحہ175 میں حافظ ابنِ عساکرؒ امام نسائیؒ سے نقل کرتے ہیں:
سئل عن معاوية بن أبی سفيان صاحب رسول اللّٰہﷺ فقال إِنَّمَا الْإِسْلَامُ كَدَارٍ لَّهَا بَابٌ فَبَابُ الْإِسْلَامِ الصَّحَابَةُ فَمَنْ آذَى الصَّحَابَةَ إِنَّمَا أَرَادَ الْإِسْلَامَ كَمَن نَّقَرَ الْبَابَ إِنَّمَا يُرِيدُ دُخُولَ الْبَابِ فَمَنْ أَرَادَ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّمَا أَرَادَ الصَّحَابَةَ۔
ترجمہ: امام نسائیؒ سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اسلام کی مثال اس گھر کی سی ہے جس کا ایک دروازہ ہو تو اسلام کا دروازہ صحابہ ہیں جو شخص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تکلیف پہنچائے گویا وہ اسلام پر حملہ کرنا چاہتا ہے جیسے کوئی شخص دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے تو گویا وہ گھر کے اندر ہی داخل ہونا چاہتا ہے لہٰذا جو سیدنا امیرِ معاویہؓ کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے تو اس کا اصل نشانہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی ہیں۔
9: امام وکیعؒ سے نقل کیا جاتا ہے فرماتے ہیں
کہ جس طرح دروازے کا کنڈا ہلانے سے پورے دروازے میں حرکت ہوتی ہے اسی طرح سیدنا امیرِ معاویہؓ پر کوئی تبصرہ کرنے سے پوری جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر زد پڑتی ہے۔ (تاريخِ دمشق لابن عساکر: جلد59 صفحہ، 210)
10: مشہور محدث خطیب بغدادیؒ الكفاية: صفحہ49 میں امام ابوزرعہ رازیؒ کا یہ قول نقل کرتے ہیں
إِذَا رَأَيْتَ الرَّجُلَ يَنْتَقِصُ أَحَدًا مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِﷺ فَاعْلَمْ أَنَّهُ زِنْدِيقٌ وَذَلِكَ أَنَّ الرَّسُولَﷺ عِندَنَا حَقٌّ وَالْقُرْآنُ حَقٌّ وَإِنَّمَا أَدَّى إِلَيْنَا هَذَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَنَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِﷺ وَإِنَّمَا يُرِيدُونَ أَن يَجْرَحُوا شُهُودَنَا لِيُبْطِلُوا الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ وَالْجَرْحُ بِهِمْ أَوْلَى وَهُم زَنَادِقَةٌ۔
ترجمہ: جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ کسی صحابی کی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ بددین شخص ہے اس لیے کہ آپﷺ سچے آپ کا لایا ہوا قرآن برحق اور آپ کے لائے ہوئے دین اور کتاب و سنت کو ہم تک پہنچانے والے یہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں تو یہ بددین لوگ ہمارے ان واسطوں اور گواہوں کو مجروح کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ خود ہی مجروح اور زندیق لوگ ہیں۔
صحابہؓ پر اگر شک ہے تو اپنے ہاتھ میں صافی
نمازیں ہیں دعائیں ہیں اذانیں ہیں نہ تکبیریں
11: قاضی ابوبعلی حنبلیؒ طبقات الحنابلہ: جلد 2 صفحہ 21 میں سیدنا سفیان بن عیینہؒ کا مقولہ نقل کرتے ہیں:
مَن نَّطَقَ فِی أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِﷺ بِكَلِمَةٍ فَهُوَ صَاحِبُ هَوًى۔
ترجمہ: جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کا ایک جملہ بھی بولے سمجھ لو کہ بدعتی ہے۔
اسی طرح کی شرعی نصوص حدیثی روایات اور ائمہ اسلام کے اقوال کی بنیاد پر تمام سلف و خلف نے ہر صحابی کے ادب واحترام اور تعظیم و تکریم کو لازم قرار دیا ہے عدالتِ صحابہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ ابن الصلاحؒ نوویؒ ابنِ کثیرؒ عراقیؒ ابنِ حجرؒ سخاویؒ سیوطیؒ اور ان کے علاوہ بہت سارے فقہاء محدثین اور اصولین نے اپنے انداز میں مختصراً یا مفصلاً یہ بات بطورِ خاص ذکر کی ہے کہ:
إِنَّ الْأُمَّةَ مُجْمِعَةٌ عَلَى تَعْدِيلِ جَمِيعِ الصَّحَابَةِ حَيْثُ نَصَّ اللّٰہُ وَرَسُولُهُ عَلَى عَدَالَتِهِمْ فَهَلْ بَعْدَ تَعْدِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِﷺ تَعْدِيلٌ فَالصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُولٌ وَمَن لَّابَسَ الْفِتَنَ مِنْهُمْ فَذَلِكَ بِإِجْمَاعِ الْعُلَمَاءِ الَّذِينَ يُعْتَدُّ بِهِمْ فِی الْإِجْمَاعِ إِحْسَانًا لِّلظَّنِّ بِهِمْ وَنَظَرًا لِّمَا تَمَهَّدَ لَهُم مِّنَ الْمَآثِرِ وَحَمْلًا لَهُمْ فِی ذَلِكَ عَلَى الِاجْتِهَادِ فَتِلْكَ أُمُورٌ مَبْنَاهَا عَلَيْهِ وَكُلُّ مُجْتَهِدٍ مُصِيبٌ أَوِ الْمُصِيبُ وَاحِدٌ وَالْمُخْطِئُ مَعْذُورٌ بَلْ مَأْجُورٌ۔
چونکہ اللہ و رسول نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعدیل فرما دی ہے اس لیے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت پر امت کا اجماع ہے اس لیے کہ اللہ و رسول کی تعدیل کے بعد کسی اور کی تعدیل کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی لہٰذا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خواہ ان کا اختلاف اور مشاجرے سے تعلق ہو یا نہ ہو سب کی عدالت پر امت کے ان تمام طبقات کا اجماع ہے جن کا اجماع کی بحث میں اعتبار کیا جاتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے حسنِ ظن کی بناء پر اور غزوات و فتوحات اور اقامت دین کے سلسلے میں ان کے بے نظیر کارناموں کی بنا پر اور ان سے جو غلطیاں ہوئیں ان کا مبنی اجتہاد تھا اور مجتہد کے بارے میں قاعدہ ہے کہ وہ خطا کی صورت میں معذور ہوتا ہے بلکہ ایک اجر کا بھی مستحق ہوتا ہے۔