سب و شتم صحابہ کا شرعی حکم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سب و شتم صحابہ کا شرعی حکم

  محمد معاویہ سعدی

صفحہ 2 از 3

ترجمہ: ہم تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اللہﷺ سے محبت کرتے ہیں کسی کی محبت میں بھی کمی نہیں کرتے نہ کسی سے اظہار براءت کرتے ہیں ہاں جو ان سے بغض رکھتا ہے یا خیر کے علاوہ کے ساتھ ان کا ذکر کرتا ہے تو ہم اس سے بغض رکھتے ہیں ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تذکرہ خیر ہی کے ساتھ کرتے ہیں ان کی محبت دین ایمان اور احسان کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا موجب کفر اور نفاق اور سرکشی کی علامت ہے۔

اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہلِ باطل سے بغض رکھنا دین میں مطلوب ہے نہ کہ تجدد پسندوں کی طرح کہ حق و باطل میں بھی خلط اور اہل حق اور اہلِ باطل میں بھی خلط۔

6: امام نوویؒ شرح مسلم باب تحریم سب الصحابة میں فرماتے ہیں:

وَاعْلَمْ أَنَّ سَبَّ الصَّحَابَةِ رَضِی اللهُ عَنْهُمْ حَرَامٌ مِنْ فَوَاحِشِ الْمُحَرَّمَاتِ سَوَاءٌ مَنْ لَابَسَ الْفِتَنَ مِنْهُمْ وَغَيْرُهُ لِأَنَّهُمْ مُجْتَهِدُونَ فِي تِلْكَ الْحُرُوبِ مُتَأَوِّلُونَ قَالَ الْقَاضِي وَسَبُّ أَحَدِهِم مِّنَ الْمَعَاصِی الْكَبَائِرِ وَمَذْهَبُنَا وَمَذْهَبُ الْجُمْهُورِ أَنَّهُ يُعَزَّرُ وَقَالَ بَعْضُ الْمَالِكِيَّةِ يُقْتَلُ۔

ترجمہ: جان لو کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہنا حرام ہے سخت ترین محرمات میں سے ہے خواہ وہ صحابی فتنے کے حالات سے دو چار ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں سب کا حکم ایک ہی ہے اس لیے کہ ان اختلافات میں سب ہی کا مبنی اجتہاد اور تاویل تھا قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کبیرہ گناہوں میں سے ہے ہمارا اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اس کے مرتکب کو سزا تو دی جائے گی مگر قتل نہیں کیا جائے گا جب کہ بعض مالکیہ فرماتے ہیں کہ سزا کے طور پر قتل کر دیا جائے گا۔

7: قاضی ابوبعلی حنبلیؒ طبقاتِ حنابلہ: جلد 2 صفحہ37 میں فرماتے ہیں:

وَاعْلَمْ أَنَّهُ مَن تَنَاوَلَ أَحَدًا مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِﷺ فَاعْلَمْ أَنَّهُ أَرَادَ مُحَمَّدًاﷺ وَقَدْ آذَاهُ فِی قَبْرِهِ۔

ترجمہ: جو شخص کسی صحابی رسول کو نشانہ ملامت بنا رہا ہے تو یقین کر لو کہ وہ محمدﷺ ہی کو کچھ کہنا چاہتا ہے اور قبر شریف میں آپ ہی کی ذات پاک کو تکلیف پہنچا رہا ہے۔

8: تاريخِ دمشق: جلد71 صفحہ175 میں حافظ ابنِ عساکرؒ امام نسائیؒ سے نقل کرتے ہیں:

سئل عن معاوية بن أبی سفيان صاحب رسول اللّٰہﷺ فقال إِنَّمَا الْإِسْلَامُ كَدَارٍ لَّهَا بَابٌ فَبَابُ الْإِسْلَامِ الصَّحَابَةُ فَمَنْ آذَى الصَّحَابَةَ إِنَّمَا أَرَادَ الْإِسْلَامَ كَمَن نَّقَرَ الْبَابَ إِنَّمَا يُرِيدُ دُخُولَ الْبَابِ فَمَنْ أَرَادَ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّمَا أَرَادَ الصَّحَابَةَ۔

ترجمہ: امام نسائیؒ سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اسلام کی مثال اس گھر کی سی ہے جس کا ایک دروازہ ہو تو اسلام کا دروازہ صحابہ ہیں جو شخص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تکلیف پہنچائے گویا وہ اسلام پر حملہ کرنا چاہتا ہے جیسے کوئی شخص دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے تو گویا وہ گھر کے اندر ہی داخل ہونا چاہتا ہے لہٰذا جو سیدنا امیرِ معاویہؓ کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے تو اس کا اصل نشانہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی ہیں۔

9: امام وکیعؒ سے نقل کیا جاتا ہے فرماتے ہیں 

کہ جس طرح دروازے کا کنڈا ہلانے سے پورے دروازے میں حرکت ہوتی ہے اسی طرح سیدنا امیرِ معاویہؓ پر کوئی تبصرہ کرنے سے پوری جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر زد پڑتی ہے۔ (تاريخِ دمشق لابن عساکر: جلد59 صفحہ، 210)

10: مشہور محدث خطیب بغدادیؒ الكفاية: صفحہ49 میں امام ابوزرعہ رازیؒ کا یہ قول نقل کرتے ہیں

إِذَا رَأَيْتَ الرَّجُلَ يَنْتَقِصُ أَحَدًا مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِﷺ فَاعْلَمْ أَنَّهُ زِنْدِيقٌ وَذَلِكَ أَنَّ الرَّسُولَﷺ عِندَنَا حَقٌّ وَالْقُرْآنُ حَقٌّ وَإِنَّمَا أَدَّى إِلَيْنَا هَذَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَنَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِﷺ وَإِنَّمَا يُرِيدُونَ أَن يَجْرَحُوا شُهُودَنَا لِيُبْطِلُوا الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ وَالْجَرْحُ بِهِمْ أَوْلَى وَهُم زَنَادِقَةٌ۔

ترجمہ: جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ کسی صحابی کی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ بددین شخص ہے اس لیے کہ آپﷺ سچے آپ کا لایا ہوا قرآن برحق اور آپ کے لائے ہوئے دین اور کتاب و سنت کو ہم تک پہنچانے والے یہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں تو یہ بددین لوگ ہمارے ان واسطوں اور گواہوں کو مجروح کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ خود ہی مجروح اور زندیق لوگ ہیں۔

صحابہؓ پر اگر شک ہے تو اپنے ہاتھ میں صافی

نمازیں ہیں دعائیں ہیں اذانیں ہیں نہ تکبیریں

11: قاضی ابوبعلی حنبلیؒ طبقات الحنابلہ: جلد 2 صفحہ 21 میں سیدنا سفیان بن عیینہؒ کا مقولہ نقل کرتے ہیں:

مَن نَّطَقَ فِی أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِﷺ بِكَلِمَةٍ فَهُوَ صَاحِبُ هَوًى۔

ترجمہ: جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کا ایک جملہ بھی بولے سمجھ لو کہ بدعتی ہے۔

اسی طرح کی شرعی نصوص حدیثی روایات اور ائمہ اسلام کے اقوال کی بنیاد پر تمام سلف و خلف نے ہر صحابی کے ادب واحترام اور تعظیم و تکریم کو لازم قرار دیا ہے عدالتِ صحابہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ ابن الصلاحؒ نوویؒ ابنِ کثیرؒ عراقیؒ ابنِ حجرؒ سخاویؒ سیوطیؒ اور ان کے علاوہ بہت سارے فقہاء محدثین اور اصولین نے اپنے انداز میں مختصراً یا مفصلاً یہ بات بطورِ خاص ذکر کی ہے کہ:

صفحہ 2 از 3