سب و شتم صحابہ کا شرعی حکم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سب و شتم صحابہ کا شرعی حکم

  محمد معاویہ سعدی

صفحہ 1 از 3

سب اور شتم یہ دونوں عربی الفاظ ہیں جن کے معنیٰ ہیں نقد و تبصرہ اور برا تذکرہ۔

اس لیے ان الفاظ کو بازاری قسم کی گالم گلوچ کے لیے خاص سمجھنا درست نہیں علامہ سخاویؒ فرماتے ہیں۔

إِنَّ الْوَصْفَ لَهُمْ بِغَيْرِ الْعَدَالَةِ سَبٌ۔ (فتح المغيث: جلد  4 صفحہ 96)

ترجمہ: ان کی طرف خلاف عدالت کوئی بھی بات منسوب کرنا سب کے تحت آتا ہے۔

پھر یہاں ایک بات اور سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ ایک چیز ہے غیبت دوسری چیز ہے بہتان صحیح حدیث میں یہ وضاحت وارد ہوئی ہے کہ کسی مسلمان کے اندر یقینی طور پر موجود عیب کو بلا ضرورت شرعیہ بیان کرنا غیبت کہلاتا ہے جس کا حکم سبھی کو معلوم ہے جب کہ غلط طور پر اس کی طرف کسی برائی کے انتساب کو بہتان کہتے ہیں جو غیبت سے بھی بدتر ہے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متعلق کسی بھی قسم کا منفی اظہارِ رائے کم از کم غیبت کے زمرے میں تو بہر حال آتا ہے۔

نیز جس طرح اپنے نسبی باپ دادا کی خطاؤں اور لغزشوں کو جانتے بوجھتے بھی چھپایا اور نظر انداز کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بھی ہے:

فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا‏ ۞(سورۃ الاسراء: آیت 23)

ترجمہ: ان کو اف تک نہ کہو ان کو جھڑکو بھی نہیں بلکہ ان سے تمیز اور نرمی سے بات کیا کرو۔

اس سے کہیں زیادہ اپنے روحانی ایمانی علمی اور عملی آباء و اجداد کی پردہ پوشی اغماض اور ادب و احترام اور محبت و تعظیم کی ضرورت ہے۔

1: صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعریف کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ الخ۔(سورۃ الفتح: آیت 29)

ترجمہ: تاکہ دل جلائے ان کے ذریعے کافروں کا۔

امام مالکؒ فرماتے ہیں جس کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے کچھ بھی غیظ اور کھوٹ ہوگا وہ اس آیت کا مصداق ہے یعنی اس کے اندر کفر کی بو پائی جاتی ہے اسی وجہ سے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جلتا ہے

مفسر قرطبیؒ امام مالکؒ کے قول کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

لَقَدْ أَحْسَنَ مَالِكٌ فِی مَقَالَتِهِ وَأَصَابَ فِی تَأْوِيلِهِ فَمَن نَّقَصَ وَاحِدًا مِّنْهُمْ أَوْ طَعَنَ عَلَيْهِ فِی رِوَايَتِهِ فَقَدْ رَدَّ عَلَى اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَأَبْطَلَ شَرَائِعَ الْمُسْلِمِينَ۔

اس کے بعد امام قرطبیؒ نے سبّ صحابہ کی ممانعت میں بہت سی آیات و احادیث بھی پیش کیں اور اس بارے میں اہلِ السنت والجماعت کے مسلک کو پوری وضاحت کے ساتھ محقق فرما دیا ہے۔(تفسیر قرطبی: جلد16 صفحہ 297)

2: مختلف احادیث میں سبِ صحابہ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید و تبصرے کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔

ایک حدیث شریف میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

اللهَ اللهَ فِی أَصْحَابِی لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِی فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّی أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِی أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِی وَمَنْ آذَانِی فَقَدْ آذَى اللّٰہ وَمَنْ آذَى اللهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ)۔(ترمذی: 3862)

ترجمہ: اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں میرے بعد ان کو اپنی تنقید کا نشانہ مت بنانا جو ان سے محبت کرتا ہے تو وہ میری نسبت ہی کا خیال کر کے کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے ہی بغض کا نتیجہ ہے جو انہیں ایذاء پہنچائے اس نے گویا مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی تو اس نے یقیناً اللہ کو ناراض کیا اور جس نے اللہ کو ناراض کیا تو قریب ہے کہ اللہ اس کی پکڑ فرمالیں۔

ایک اور حدیث صحیح میں سب صحابہ سے ممانعت وارد ہوئی ہے آپ نے سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:

لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِی۔ (بخاری: 3673 مسلم 2540)

علامہ سخاویؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جب ایک صحابی کو دوسرے صحابی کو کچھ کہنے سے منع کیا جا رہا ہے تو غیر صحابی کے لیے تو یہ ممانعت بدرجہ اولیٰ ہوگی اس لیے کہ قاعدہ ہے کہ ایسے مواقع پر عموم لفظ کا اعتبار کیا جاتا ہے خصوص مورد کا نہیں یہی اکثر کی رائے ہے اور اسی کو قاضی عیاضؒ نے بھی درست قرار دیا ہے۔ (فتح المغيث: جلد 4 صفحہ 86، 96)

3: جب کسی عام مسلمان کا سِباب فسق ہے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سِباب تو انتہائی خطرناک درجے تک پہنچتا ہے اسی لیے امام احمدؒ فرماتے ہیں:

إِذَا رَأَيْتَ رَجُلًا يَذْكُرُ أَحَدًا مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِﷺ بِسُوءٍ فَاتَّهِمْهُ عَلَى الْإِسْلَامِ۔(تاريخِ دمشق: جلد 59 صفحہ 209)

ترجمہ: کہ جب کسی کو دیکھو کہ کسی صحابی پر تنقید کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ اس کا دین مشکوک ہے۔

4: سئل أحمد عن رجل انتقص معاوية وعمرو بن العاص أيقال له رافضی قال إِنَّهُ لَمْ يَجْتَرِئْ عَلَيْهِمَا إِلَّا وَلَهُ خَبِيثَةٌ مَا يُبْغِضُ أَحَدٌ أَحَدًا مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِﷺ إِلَّا وَلَهُ دَاخِلَةٌ سُوءٌ۔ (تاريخِ دمشق: جلد59 صفحہ210)

ترجمہ: امام احمدؒ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص سیدنا امیرِ معاویہؓ یا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی تنقیس کرتا ہے کیا اس کو رافضی کہا جائے گا فرمایا ان کی تنقیس کی جرأت وہی شخص کر سکتا ہے جو بد باطن ہو کوئی بھی کسی بھی صحابی رسول سے اگر بغض رکھتا ہے تو یہ اس کے بد باطن ہونے کی علامت ہے۔

5: بلکہ اہل السنت والجماعت کے عقائد کی سب سے مستند ترین کتاب العقیدة الطحاوية: صفحہ 80، 81 میں یہ اضافہ بھی ہے

وَنُحِبُّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَلَا نُفَرِّطُ فِی حُبِّ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَلَا نَتَبَرَّأُ مِنْ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنُبْغِضُ مَنْ يُبْغِضُهُمْ وَبِغَيْرِ الْخَيْرِ يَذْكُرُهُمْ وَلَا نَذْكُرُهُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ وَحُبُّهُمْ دِينٌ وَإِيمَانٌ وَإِحْسَانٌ وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ وَنِفَاقٌ وَطُغْيَانٌ۔

صفحہ 1 از 3