شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی غلام الرحمٰن کا فتویٰ - فتاویٰ…

شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی غلام الرحمٰن کا فتویٰ


شیعہ کا ذبیحہ کھانا:

سوال: اہلِ تشیع مختلف عقائد و نظریات رکھتے ہیں۔ کیا ان عقائد و نظریات کی وجہ سے ان کے ذبیحے پر اثر پڑتا ہے یا نہیں؟ اور ایسا ذبیحہ ہمارے لیے کھانا حلال ہے یا نہیں؟

جواب: اہلِ تشیع میں سے جو شخص صرف اس بات کا قائل ہو کہ حضرت علیؓ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل ہیں اور باقی سب تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کو کافر و مرتد نہ سمجھتا ہو، تو اس کا یہ عمل فسق اور ضلالت و گمراہی ہے، لیکن کفر نہیں۔ لہٰذا ایسے شخص کا ذبیحہ حلال رہے گا۔ لیکن جو شخص ایسے عقیدے کا قائل ہو جس کے کفر پر امت کا اتفاق ہو، جیسے حضرت علیؓ کی الوہیت کا عقیدہ رکھنا، یا یہ کہنا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے وحی میں غلطی کر کے حضور اکرمﷺ کو وحی پہنچائی حالانکہ حق حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تھا، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرنا، یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کافر اور مرتد کہنا، یا تحریفِ قرآن کا عقیدہ رکھنا، یا حضرت عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگانا وغیرہ، یہ تمام ایسی باتیں ہیں کہ ان کا عقیدہ رکھنے والا یا ان کا قائل کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا ایسے شخص کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔

والدليل على ذلك: واما شرائط الزکاۃ وَمِنْهَا أَن يَكُونَ مُسْلِمًا أَوْ كِتَابِيًّا فَلَا تُؤْكَلُ ذَبِيحَةُ أَهْلِ الشِّرْكِ وَالْمُرْتَدِّ  

ترجمہ: ذبح کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ ذبح کرنے والا مسلمان یا اہلِ کتاب ہو۔ پس کسی مشرک اور مرتد کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا۔  

(فتاویٰ عثمانیہ: جلد8 صفحہ 302)