مشاجرات صحابہؓ اور جمہور امت کا موقف - دفاعِ اہلِ سنت |…

مشاجرات صحابہؓ اور جمہور امت کا موقف

  محمد معاویہ سعدی

صفحہ 2 از 2

وَكِتْمَانُ ذَلِكَ مُتَعَيَّنٌ عَنِ الْعَامَّةِ وَآحَادِ الْعُلَمَاءِ وَقَدْ يُرَخَّصُ فِی مُطَالَعَةِ ذَلِكَ خَلْوَةً لِلْعَالِمِ الْمُنْصِفِ الْعَرِی مِنَ الْهَوَى بِشَرْطِ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَهُمْ كَمَا عَلَّمَنَا اللّٰہُ تَعَالَى

وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا الخ۔(سورۃ الحشر: آیت 10)  

فَالْقَوْمُ لَهُمْ سَوَابِقُ وَأَعْمَالٌ مُكَفِّرَةٌ لِّمَا وَقَعَ مِنْهُمْ وَجِهَادٌ مَحَّاءٌ وَعِبَادَةٌ مُمَحِّصَةٌ وَلَسْنَا مِمَّن يَغْلُو فِی أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَلَا نَدَّعِی فِيهِمُ الْعِصْمَةَ نَقْطَعُ أَنَّ بَعْضَهُمْ أَفْضَلُ مِن بَعْضٍ فَأَمَّا مَا تَنْقُلُهُ الرَّافِضَةُ وَأَهْلُ الْبِدَعِ فِی كُتُبِهِم مِّن ذَلِكَ فَلَا نَعْرُجُ عَلَيْهِ وَلَا كَرَامَةَ فَأَكْثَرُهُ بَاطِلٌ وَكَذِبٌ وَافْتِرَاءٌ فَدَأْبُ الرَّوَافِضِ رِوَايَةُ الْأَبَاطِيلِ أَوْ رَدُّ مَا فِی الصِّحَاحِ وَالْمَسَانِيدِ وَمَتَى إِفَاقَةُ مَن بِهِ سُكْرَانُ رَضِی اللّٰہُ تَعَالَى عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ۔

ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آپس کے اختلافات اور قتال سے سکوت رکھنے کا مسئلہ طے شدہ ہے ہماری نظروں سے اس موضوع سے متعلق روایات روزانہ تاریخ وغیرہ کی کتابوں اور رسالوں میں گزرا کرتی ہیں مگر زیادہ تر منقطع اور ضعیف ہوتی ہیں بلکہ موضوع تک یہ کتابیں ہمارے سامنے بھی ہیں دیگر علماء کے سامنے بھی ہیں جو چاہے اٹھا کر دیکھ لے اس لیے مناسب یہی ہے کہ یہ موضوع بند کر کے اور لپیٹ کر ہی رکھا جائے بلکہ اس کو اپنی گفتگو سے خارج ہی کر دیا جائے تاکہ قلوب میں صفائی رہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت اور رضا کا جذبہ موج زن رہے۔

اور عوام سے اسی طرح عام مولویوں سے تو اس طرح کے موضوعات کا اخفاء متعین ہی ہے صرف اس عالم کے لیے رخصت ہے جو انصاف پسند ہو نفسانی جذبات سے بالاتر ہو وہ بھی تنہائی میں مطالعہ کرے اور آخر میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے استغفار کا اہتمام کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ان کے بعد والے آ کر ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں یہ کہا کریں گے اے ہمارے رب مغفرت فرما دیجیے ہماری اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ گزر چکے اور نہ رکھیے ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کھوٹ۔

اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت ایسی ہے کہ ان کے بہت سے کارنامے اور بہت سے ایسے اعمال ہیں جو خود ہی سارے گناہوں کا کفارہ ہیں جہاد ایسا کہ ساری غلطیوں کو دھو دے عبادت ایسی کہ سارے گناہوں کو مٹا دے۔

ہم کوئی غلو کرنے والوں میں سے نہیں ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معصوم نہیں سمجھتے پھر سب کو ایک ہی مرتبہ کا نہیں کہتے ان میں فرق مراتب کا اعتقاد رکھتے ہیں پھر ذہبیؒ نے ان کے مراتب ذکر فرمائے اور آخر میں فرمایا:

اور یہ سب جو روافض اور اہلِ بدعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متعلق اپنی کتابوں میں لکھتے پڑھتے ہیں ان کا کوئی اعتبار نہیں فضول باتیں ہیں اکثر باطل جھوٹ اور من گھڑت ہیں روافض کا شیوہ ہی ہے باطل خبروں کا روایت کرنا اور مستند صحاح و مسانید کی روایتوں کو رد کر دینا مگر جس کو جنون ہو اس سے توقع ہی کیا کی جائے۔


صفحہ 2 از 2