یہاں ایک مشہور حدیث کی وضاحت بھی ضروری ہے جو بخاری و مسلم وغیرہ میں آپﷺ سے متعدد سندوں سے مروی ہے کہ آپ نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ انہیں الفئة الباغية قتل کرے گی بعض طرق میں یہ اضافہ بھی ہے کہ یہ تو انہیں جنت کی طرف بلا رہے ہوں گے اور وہ انہیں جہنم کی طرف۔
اس حدیث میں واضح اور صاف لفظوں میں اس جماعت کو باغی جماعت کہا گیا ہے جس کے ہاتھوں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت پیش آئے گی اسی حدیث کی بنیاد پر جمہور اہل السنت و الجماعت نے مشاجراتِ صحابہ میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کے موقف کو راجح قرار دیا ہے اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے اجتہاد کو خطا پر محمول کیا ہے۔
یہاں یہ واضح رہے کہ حضرت کے اس اجتہاد اور اس خطا کی بحث آپ کے اندر اجتہادی شان تسلیم کرنے کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے جیسا کہ صحیح (بخاری 3765) میں آپ کے تفقه اور اجتہاد کے بارے میں حضرت ابنِ عباسؓ کا اعتراف بھی موجود ہے ورنہ ہرکس و ناکس کے اس طرح کے اختلاف کو اجتہاد پر نہیں محمول کیا جاتا بلکہ ایسوں کے اختلاف بلکہ انحراف کا مبنی عموما کم علمی بدفہمی اور خود پسندی وغیرہ بیماریاں ہوتی ہیں۔
ہر حال چونکہ اہلِ حق کے ہاں دیگر احادیث کی بناء پر یہ بات طے شدہ ہے کہ مجتہد خاطی معذور ہوتا ہے بلکہ ایک اجر کے ذریعے ماجور یعنی مستحق اجر بھی ہوتا ہے اس لیے جب وہ طلب حق کی سعی حسن نیت اور جذبہ صالح کی بناء پر موردِ اجر و ثواب ٹھہر رہا ہے تو اس پر سبِ و شتم اور تنقید و تبصرہ کے کیا معنیٰ۔
(مستفاد از شرح النووی وفتح الباری)