صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس آپسی اختلاف کو مشاجرہ کیوں کہتے ہیں اس کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ مشاجرہ شجر سے ماخوذ ہے جس طرح درخت کی شاخوں میں تشعب یعنی شاخ در شاخ کا سلسلہ ہوتا ہے کہ ان کی سب کی اصل اور جڑ ایک ہوتی ہے اور اوپر جا کر وہ سب الگ الگ ہو جاتی ہیں اور یہ چیز درخت کے لیے باعث حسن اور وجہ کشش ہوتی ہے نہ کہ سبب بدنمائی اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سیاسی اختلافات بھی شجرہ نبوت سے پھوٹنے والی زریں شاخوں کی طرح رحمت قرار دیے گئے ہیں:
أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِی السَّمَاءِ۔
(از مقام صحابہ حضرت مفتی شفیع صاحب)